یمن
یمن کے اسّی فیصد عوام کو انسان دوستانہ امداد کی ضرورت ہے
یمن میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے احمد شدول نے اعلان کیاہے کہ یمن کے انیس ملین افراد یعنی ملک کی اسّی فیصد آبادی کو بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے -
ڈبلیو ایچ او کے مذکورہ عہدیدار کا کہنا ہے کہ یمن کے چودہ ملین شہریوں کو ابتدائی ترین طبی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں -
ان کا کہنا ہےکہ یمن میں اٹھائیس فیصد طبی مراکز بند پڑے ہیں اور ملک کےچودہ فیصد طبی مراکز میں پچاس فیصد سے بھی کم عملہ کام کررہاہے جو اس لحاظ سے انتہائی ہولناک اعداد وشمار ہیں-
دوسری جانب اخبار الساعہ نامی عرب نیوزویب سائٹ نے لکھاہے کہ سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں سے بچ کر جیبوتی میں پناہ لینے والے ہزاروں یمنی باشندوں کی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے -
خبروں میں کہا گیاہے کہ جیبوتی میں پناہ لینے والے یمنی باشندوں کو شدیدغذائی قلت کا سامنا ہے اور یہ پناہ گزیں خراب آب وہوا کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں -
گذشتہ ایک سال کے دوران جب سے یمن پر سعودی عرب کی وحشیانہ جارحیت شروع ہوئی ہے ایک لاکھ تہتر ہزار یمنی باشندوں نے دوسرےملکوں میں پناہ لے لی ہے جن میں تینتیس ہزار یمنی پناہ گزینوں نے جیبوتی میں پناہ لی ہے -
جیبوتی میں پناہ لینےوالے یمنی شہریوں کے کیمپوں میں کسی بھی طرح کی بنیادی سہولیات نہیں ہیں اور طرفہ ستم یہ ہے کہ انہیں جیبوتی کی پولیس بھی بری طرح ہراساں کرتی ہے -
خبروں میں کہا جارہاہے کہ جیبوتی میں یمنی پناہ گزینوں کے لئے اتنے سخت ترین حالات کے باوجود سعودی بمباریوں سے جان بچاکر ابھی بھی ہرروز پانچ سو سے آٹھ سویمنی شہری جیبوتی میں پناہ لے رہے ہیں جہاں انہیں انتہائی ابترصورتحال میں زندگی کے دن کاٹنے پڑ رہے ہیں -
ان یمنی پناہ گزینوں کے پاس نہ تو کھانے کے لئے غذا ہے اور نہ ہی سرچھپانے کے لئے کوئی جگہ ہے مصیبت کے مارے یہ یمنی باشندے دن تیز دھوپ میں گذارتے ہیں تورات کھلے آسمان کے نیچے بسر کرتے ہیں -