May ۱۱, ۲۰۱۶ ۰۷:۰۹ Asia/Tehran
  • طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی کا کہنا ہے کہ طالبان نے گریشک میں دو سیکورٹی چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
    طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی کا کہنا ہے کہ طالبان نے گریشک میں دو سیکورٹی چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

افغانستان کے صوبے ہلمند میں طالبان نے حملہ کر کے دو سیکورٹی چیک پوسٹوں پر قبضہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔

موصولہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے صوبے ہلمند میں دو سیکورٹی چیک پوسٹوں پر طالبان کے قبضے کے بعد صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ طالبان نے گریشک شہر میں چیک پوسٹوں پر حملہ کیا جو ہلمند کے مرکزی ہائی وے پر ہیں اور اس کے شمال میں چند کلو میٹر دور لشکرگاہ کا گورنر ہاؤس اور مغرب میں ناد علی ڈسٹرکٹ واقع ہے۔

ہلمند میں سینئر سیکورٹی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان کے اس حملے میں 15 اہلکار مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر کوئی کارروائی نہ کی تو یہاں بڑی تباہی ہو گی۔

صوبائی کونسل کے ایک رکن بشیر شاکر نے بتایا کہ طالبان عناصر گزشتہ کچھ دنوں سے لشکرگاہ کی سیکورٹی بیلٹ کے قریب حملے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ لڑائی میں 15 پولیس اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ خطرہ مزید بڑھ رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر کچھ نہ کیا تو ہم لشکرگاہ کا کنٹرول کھو بیٹھیں گے۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی کا کہنا ہے کہ طالبان نے گریشک میں دو سیکورٹی چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ہلمند میں طالبان کی پیش قدمی کے بعد رواں برس امریکا نے اپنے سیکڑوں فوجی وہاں بھیجے تھے، جو بقول واشنگٹن وہاں افغان فوجیوں کی تربیت اور انہیں مشاورت فراہم کر رہے ہیں۔

ٹیگس