May ۲۲, ۲۰۱۶ ۱۲:۲۵ Asia/Tehran
  • افغانستان کی وزارت دفاع نے طالبان کے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق کردی

افغانستان کے نائب وزیر دفاع نے افغان طالبان سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے-

افغانستان کے نائب وزیر دفاع عبدالجبار قہرمان نے فارس نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ اختر منصور یقینی طور پر پاکستان کی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا ہے- انہوں نے القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن اور اب اختر منصور کے پاکستان میں مارے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں، علاقے اور دنیا کے دہشت گرد گروہوں کے سربراہوں کی ہلاکت سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ علاقے اور دنیا میں دہشت گردی کے تمام پروگراموں کے پس پردہ پاکستان کا ہاتھ ہے- حکومت افغانستان نے بارہا پاکستان پر دہشت گرد گروہوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے اور اس امر پر تاکید کی ہے کہ افغانستان میں ہونے والے تمام دہشت گردانہ واقعات میں درپردہ پاکستان کا ہاتھ ہے-

افغانستان کے نائب وزیر دفاع نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ان کے ملک کے اعلی سرکاری اور فوجی حکام کو کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی بڑھنے پر تشویش نہیں ہے کہا کہ ان دو پڑوسی ملکوں کے درمیان تعلقات کبھی بھی نیک نیتی پر استوار نہیں رہے اور پاکستان کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ افغانستان میں امن قائم نہ ہوسکے اور یہ ملک بدحالی سے دوچار رہے- عبدالجبار قہرمان نے کہا کہ پاکستان طالبان کے سربراہ کی ہلاکت اور دہشت گرد گروہوں کے سربراہوں کی پاکستان میں موجودگی ثابت ہونے کے ساتھ ہی ماضی سے زیادہ گوشہ نشیں ہوجائے گا-

قابل ذکر ہے کہ امریکی نیوز ایجنسی ایسوشی ایٹیڈ پریس نے اتوار کو بریکنگ نیوز میں طالبان کے ایک سینئر لیڈر کے حوالے سے، طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کے امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کی تصدیق کی ہے-

ٹیگس