اہم طالبان کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے افغان فوج کی کارروائی
حکومت افغانستان نے اہم طالبان کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہ اس وقت صوبہ ہلمند میں افغان فوج اور طالبان کے درمیان جنگ جاری ہے۔ کہا کہ افغانستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں صوبہ ہلمند میں طالبان سب سے زیادہ سرگرم ہیں۔
افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے شمالی صوبے بغلان کی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں قیام امن کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بغلان کے شہروں دنڈ غوری اور دنڈ شہاب الدین کو طالبان کے قبضے سے چھڑانے کے لیے بڑی فوجی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے یہ بات زور دیکر کہی کہ، ملک کے مختلف علاقوں میں سرگرم اہم طالبان کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے بھی افغان سیکورٹی فورس نے نئے اقدامات پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔
صدیق صدیقی نے افغانستان میں طالبان کے اہم کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے کسی آپریشن کے آغاز کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب پچھلے دو ماہ کے دوران افغان فوج اور دیگر سیکورٹی اداروں کے خلاف طالبان کے حملوں میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔