اقوام متحدہ کے اقدام کی مذمت میں یمنی بچوں کا مظاہرہ
بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ملکوں کی فہرست سے سعودی عرب کا نام نکالے جانے کے خلاف یمنی بچوں نے وسیع احتجاجی مظاہرہ کیا۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق یمن کے مختلف صوبوں منجملہ تعز، عمران اور حجہ کے یمنی بچوں نے بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ملکوں کی فہرست سے سعودی عرب کا نام نکالے جانے سے متعلق اقوام متحدہ کے اقدام کی شدید مذمت کی اور اس اقدام کو سعودی عرب کی آل سعود حکومت کے جارحانہ اقدام سے اقوام متحدہ کی یکسوئی قرار دیا۔
یمنی بچوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اپنی غلّکیں توڑ دیں اور ان میں جمع پیسے نکال کر اقوام متحدہ کو ہدیہ کر دیئے تاکہ یہ عالمی ادارہ، مجرم سعودی حکومت کی مالی مدد کا محتاج نہ رہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے سعودی حکومت کی اس دھمکی کے بعد کہ وہ اقوام متحدہ کے لئے اپنی مالی مدد منقطع کردے گی، سعودی عرب کا نام بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ملکوں کی فہرست سے نکال دیا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے علاقے کے بعض عرب ملکوں کے ساتھ مل کر اور امریکہ کی حمایت سے چھبّیس مارچ دو ہزار پندرہ کو یمن پر وسیع پیمانے پر جارحانہ حملے شروع کئے تاکہ اس ملک کے مستعفی صدر منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لایا جاسکے۔
ان جارحانہ حملوں کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں یمنی شہری شہید و زخمی اور دسیوں ہزار دیگر بے گھر ہو گئے جبکہ اس ملک کی بنیادی تنصیبات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا جس میں اسپتال اور طبی مراکز نیزعام سہولیات کے دیگر مراکز بھی شامل ہیں۔