Apr ۰۷, ۲۰۱۷ ۱۴:۳۲ Asia/Tehran
  • شام  پر امریکہ کے میزائل حملے کی سعودی عرب اور مغربی ملکوں کی جانب سے حمایت کا اعلان

شام کے علاقے حمص میں الشعیرات ائیر بیس پر امریکہ کے میزائل حملے کے بعد دہشت گردوں کے حامی ملکوں منجملہ برطانیہ، سعودی عرب، ترکی اور اسرائیل نے حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ شام کے صوبے حمص کے گورنر نے اس جارحیت کو دہشت گردوں کی خدمت سے تعبیر کیا ہے۔

شام کے علاقے حمص میں الشعیرات ایربیس پر امریکہ کے میزائل حملے کے بعد سعودی عرب نے شام میں فوجی اہداف پر امریکی حملوں کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسے ادلب میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ردعمل میں امریکی صدر ٹرمپ کے جرآتمندانہ فیصلے سے تعبیر کیا ہے۔

شام کی مسلح اپوزیشن اتحاد کے پریس شعبے کے سربراہ احمد رمضان نے بھی امریکہ کے میزائل حملے پر حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو چاہئے کہ شام کی فضائیہ کی طاقت ختم کر دے۔

برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کے ترجمان نے بھی دعوی کیا ہے کہ حکومت برطانیہ کا خیال ہے کہ شام میں امریکہ کی فوجی مداخلت ادلب میں شامی فوج کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا مناسب جواب ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ حکومت شام نے تاکید کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ اس نے ادلب میں کسی بھی قسم کے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا ہے۔

ادھر آسٹریلیا کے وزیر اعظم میلکم ٹرنبل نے امریکی حملے کو مناسب اقدام قرار دیا ہے۔ ترکی کے نائب وزیر اعظم نعمان کورتولموش نے بھی حمص میں شامی فضائیہ کے ایربیس پر امریکہ کے کروز میزائلوں کے حملے کو مثبت اقدام سے تعبیر کیا ہے۔

دوسری جانب شام کے صوبے حمص کے گورنر نے اس جارحیت کو دہشت گردوں کی خدمت سے تعبیر کیا ہے۔ حمص کے گورنر طلال البرازی نے شام کے سرکاری ٹیلیویژن سے گفتگو میں حمص میں الشعیرات ایربیس پر امریکہ کے دو بحری بیڑوں یو ایس ایس راس اور یو ایس ایس پورٹر سے انسٹھ ٹام ہاک کروز میزائل فائر کئے جانے کے امریکی اعتراف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے اس حملے کا مقصد شام کی فضائیہ کے طیاروں اور فضائیہ کے سسٹم کو تباہ کرنا رہا ہے۔

البرازی نے دہشت گردی کے خلاف مہم میں شامی فوج کی توانائی کو کمزور کرنے کے لئے امریکی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اقدامات کی مذمت میں دمشق کے مواقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

انھوں نے الشعیرات ائیربیس پر امریکی حملے کے بعد کی جاری امدادی کارروائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا کہ شام کے اس ایربیس کا دہشت گردی کے خلاف مہم اور تدمر کو آزاد کرانے میں اہم کردار رہا ہے اور داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف جنگ میں یہ ایر بیس، شامی فوج کا اہم ٹھکانہ بنی رہی ہے۔

البرازی نے اسی طرح حمص کے فوجی ٹھکانے پر امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والے شامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملے میں جانی و مالی نقصانات کے علاوہ کچھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنھیں بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عرب ذرائع نے بھی شام کی مسلح اپوزیشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ امریکہ کے میزائل حملوں میں کئی ہلاک و زخمی ہونے کے علاوہ الشعیرات ایربیس کا ٹاور اور شامی فوج سے متعلق چودہ سوخوی لڑاکا طیارے تباہ ہوئے ہیں۔

ٹیگس