Nov ۱۶, ۲۰۱۷ ۰۸:۳۵ Asia/Tehran
  • سعد حریری سعودی عرب میں قید

لبنان کے صدر میشل عون نے پہلی مرتبہ کھلے عام سعودی عرب پر لبنانی وزیراعظم سعد حریری کو قید میں رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔

لبنان کے صدر میشل عون نے کہا ہے کہ سعد حریری کی وطن سے غیر حاضری کا کوئی جواز نہیں ہے اور انھوں نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

صدر میشل عون نے سعد حریری کی سعودی عرب میں بلا وجہ موجودگی کے بارے میں کہا کہ یہ لبنان کے خلاف کھلی جارحیت ہے۔

میشل عون نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ سعد حریری کی گزشتہ 12 دنوں سے سعودی عرب میں موجودگی کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں ان کی مرضی سے اور انسانی حقوق کے بارے میں ویانا کنونشن کے خلاف سعودی عرب میں روکا جا رہا ہے۔

صدر نے وزیراعظم کے استعفے کے بارے میں کہا کہ جب تک وہ ملک سے باہر ہیں اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، انھوں نے کہا کہ اپنے استعفے کے بارے میں بات کرنے کے لئے انھیں لبنان واپس آنا پڑے گا اور استعفیٰ دینے کی وجہ بیان کرنا پڑے گی جس کو دور بھی کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ سعد حریری نے نومبر کی 4 تاریخ کو سعودی عرب سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک وہ لبنان واپس نہیں جا سکے ہیں۔

دوسری جانب فرانسیسی صدر میکروں نے سعد حریری کو فرانس آنے کی دعوت دیتے ہوئے واضح کیا کہ دعوت کا یہ عمل سیاسی پناہ کی آفر نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنان کے مستعفیٰ وزیراعظم کچھ روز میں فرانس جائیں گے۔

ٹیگس