بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت ماننے کے لئے فلسطینی صدر کو رشوت
خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے امریکی فیصلے کو ماننے کے لئے فلسطین کے صدر محمود عباس کو دس کروڑ ڈالر رشوت ادا کر دیے ہیں۔
روئٹرز نے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردینے کے امریکی فیصلے کو ماننے کے لئے فلسطین کے صدر محمود عباس کو 100 ملین ڈالرکی رشوت ادا کردی ہے جبکہ محمود عباس کا کہنا ہے کہ یہ امداد فلسطینی بجٹ اور اسرائیلی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ادا کی گئی ہے۔
روئٹرز کے مطابق سعودی عرب ایک طرف بہ ظاہر امریکہ کے اقدام کی مذمت کررہا ہے اور دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوشش کررہا ہے۔ عرب اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردینے سے پہلے سعودی عرب، مصر اور امارات کے رہنماؤں سے مشورہ کیا تھا اور سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان اور ولیعہد محمد بن سلمان دونوں کو اس بات کا علم تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کریں گے۔
مطابق ڈیلی پاکستان نے اسرائیل کے ٹی وی چینل 10 کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان ، مصرکے صدر السیسی اور امارات کے حکمراں سے مشورے کے بعد بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔