فلسطینی شہدا کی تعداد میں اضافہ
صیہونی فوجیوں کی فائرنگ سےغزہ کے علاقے خان یونس میں ایک اور فلسطینی نوجوان شہید ہوگیا ہے۔
فلسطین کے انفارمیشن سینٹر نے خبردی ہے کہ صیہونی فوجیوں نے پندرہ سالہ نوجوان عزام ھلال العویضہ کو سرمیں گولی ماردی۔ اس پندرہ سالہ نوجوان کی شہادت کے بعد گذشتہ تیس مارچ سے فلسطینیوں کے واپسی مارچ پر صیہونی فوجیوں کی فائرنگ میں شہید ہونے والوں کی تعداد انچاس ہوگئی ہے۔
اس درمیان فلسطینی انتظامیہ کے سینیئر رکن صائب عریقات نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی حکومت کے وحشیانہ مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی پرشدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری صیہونی حکومت کے مجرمانہ اقدامات اور وحشیانہ کارروائیوں کی روک تھام میں کوئی عملی قدم اٹھانے سے گریز کررہی ہے۔ صائب عریقات کا کہنا تھا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ اسرائیل کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے کہ وہ نہتے اور بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف اپنے حملے جاری رکھے اور اس پر عالمی عدالت میں کوئی مقدمہ بھی نہیں چلایا جارہا ہے۔
ادھر حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کا نہ رکنے والا واپسی مارچ صیہونی دشمن کے لئے ڈراونا خواب بن گیا ہے۔ حماس کے سربراہ نے کہا ہے کہ جب تک اپنے حقوق حاصل نہیں کرلیتے اس وقت تک واپسی مارچ سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
گذشتہ جمعے کو بھی فلسطینیوں نے مسلسل پانچویں ہفتے واپسی مارچ نکالا اور صیہونی فوجیوں نے اس بار بھی فلسطینیوں کے پر امن مظاہرے پر اندھا دھند فائرنگ کرکے چار فلسطینیوں کو شہید اور چھے سو سے زائد دیگر کو زخمی کردیا۔
فلسطینیوں کے حقوق کی واپسی کے عنوان سے فلسطینی عوام کا مارچ گذشتہ تیس مارچ سے جاری ہے۔ اس وقت سے اب تک جہاں دسیوں فلسطینی شہید ہوئے ہیں وہیں صیہونی فوجیوں کے حملے میں ساڑھےچھے ہزار زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک سو تیس فلسطینیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
فلسطین کی تحریک جہاد اسلامی نے بھی ہفتے کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ واپسی مارچ میں فلسطینی نوجوانوں کی وسیع پیمانے پر شرکت ان لوگوں کو بہترین جواب ہے جو اس مارچ کی کامیابی کے بارے میں شک و شبہے کا اظہار کررہے ہیں یا پھر واپسی مارچ کو جاری رکھنے سے ڈرتے ہیں۔ فلسطین کی تحریک جہاد اسلامی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت کے ساتھ مذاکرات اور ساز باز کا آپشن ختم ہوچکا ہے اور آج پوری فلسطینی قوم جد وجہد اور فداکاری کے میدان میں موجود ہے۔