یمن پر سعودی عرب کی وحشیانہ جارحیت
سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے یمن کے مختلف علاقوں پر وحشیانہ جارحیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے صعدہ، صنعا اور الحدیدہ پر بمباری کی ہے جس میں متعدد عام شہری زخمی ہو گئے۔
المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے صنعا کے مشرق میں واقع علاقے نہم میں غولہ الحنشات پر تین بار بمباری کی جس میں ایک بچہ سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔
سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے اسی طرح صنعا کے مغرب میں بین مطر نامی علاقے کو بھی کئی بار جارحیت کا نشانہ بنایا۔ سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے شمالی یمن میں صعدہ کے علاقوں پر بھی متعدد بار حملہ کیا۔
سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے بھی مغربی ساحل اور اسی طرح جیزان کے علاقے میں سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اسی طرح جیزان میں سعودی عرب کی آرامکو آئل کمپنی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اعلان کیا ہے کہ پیر کی رات جنوبی سعودی عرب کے علاقے جیزان میں واقع آرامکو آئل کمپنی کی تنصیبات پر میزائل سے حملہ کیا گیا۔
اس سے قبل یمنی فوج کے ترجمان شرف لقمان نے کہا تھا کہ جب تک یمن پر جارحیت اور اس کا محاصرہ جاری ہے جارح ملکوں کی اقتصادی تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔
یمن کے مکمل محاصرے کے باوجود اس ملک کی فوج اورعوامی رضاکار فورس کی دفاعی توانائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کی حمایت سے ایک فوجی اتحاد قائم کر کے مارچ دو ہزار پندرہ سے ایک غریب اسلامی عرب ملک، یمن کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے جس میں اب تک ہزاروں بے گناہ عام شہری شہید و زخمی اور لاکھوں دیگر بے گھر ہو چکے ہیں جب کہ اس ملک کی اقتصادی و بنیادی تنصیبات کو بھی تباہ کر دیا گیا اور نتیجے میں اس ملک کو غذائی اشیا اور دواؤں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عرب، یمن کو جارحیت کا نشانہ بنا کر اب تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر سکا ہے۔