یمنی فوج کی جوابی کارروائی، جنوبی سعودی عرب میں فوجی ٹھکانوں پر حملہ
جارح سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیتوں کے جواب میں سعودی حکومت اور اس کی اتحادی فوج کے مراکز پر یمنی افواج کے میزائلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
یمن پر سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اورعوامی رضاکار فورس نے جنوبی سعودی عرب کے صوبے عسیر میں علب گذرگاہ کے قریب سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں پر زلزال ایک قسم کے میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔
یمنی فوج اورعوامی رضاکار فورس کی جانب سے کی جانے والی اس جوابی کارروائی میں سعودی اتحاد کے فوجیوں اور ان کے جنگی ساز و سامان کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں ابھی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔
اس سے قبل یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے منگل کی رات جنوبی سعودی عرب میں جیزان میں جبل القیس کے اطراف میں سعودی آلہ کار فوجیوں کے حملے کو ناکام بنا دیا تھا۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اس حملے کو ناکام بناتے ہوئے جیزان کے کئی علاقوں کو اپنے کنٹرول میں بھی لے لیا۔
دریں اثنا المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحیی السریع نے کہا ہے کہ یمنی فوج اورعوامی رضاکار فورس نے نجران کے محاذ پر سعودی عرب کی گیارہ فوجی گاڑیوں کو تباہ کر دیا جس کے نتیجے میں سعودی عرب کا بھاری نقصان ہوا۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق نجران میں صحرائے الاجاشر اور الربعہ علاقوں میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے سعودی فوجیوں کی گیارہ گاڑیوں کو تباہ کر دیا اور ان کے حملے کو ناکام بنا دیا جس کے بعد وہ فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
یحیی سریع کے مطابق شمالی یمن کے صوبے الجوف میں بھی یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے خب و الشعف کے علاقے میں الخلیفین محاذ پر جارح سعودی اتحاد کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا جس میں سعودی اتحاد کے فوجیون کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا۔
اس سے قبل سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمن کے صوبے صعدہ میں رازح کے علاقے بنی معین پر دو بار بمباری کی۔ الحدیدہ کے علاقے التحیتا میں بھی سعودی اتحاد کی جارحیت اور فائرنگ میں ایک بچہ زخمی ہو گیا۔
یمن کے تمام تر محاصر کے باوجود یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی دفاعی توانائی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور یمن کی جنگ، سعودی سرحدوں کے اندر بھی جاری ہے۔
اسٹاک ہوم میں یمنی دھڑوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں طے پانے والے امن سمجھوتے پر گزشتہ برس اٹھارہ دسمبر سے عملدرآمد شروع کیا گیا تھا لیکن سعودی اتحاد الحدیدہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔
یمن میں قیام امن کے لیے چوتھے دور کے مذاکرات دسمبر دو ہزار اٹھارہ کے اوائل میں شروع ہوئے تھے اور تیرہ دسمبر تک جاری رہے۔
سعودی اتحاد کی جانب سے الحدیدہ میں فائر بندی کی جاری خلاف ورزی سے پتہ چلتا ہے کہ جارح اتحاد اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے جبکہ عالمی برادری یمن میں امن کا قیام چاہتی ہے اور اس سلسلے میں اس کی کوشش بھی جاری رہی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب، امریکہ اور بعض دیگر ملکوں کی حمایت سے مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنائے ہوئے ہے جس میں اب تک دسیوں ہزار یمنی عام شہری شہید و زخمی اور لاکھوں دیگر بے گھر ہوئے ہیں۔