Aug ۲۴, ۲۰۱۹ ۰۷:۴۰ Asia/Tehran
  • امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء سے متعلق امریکا اور طالبان کے درمیان قطر میں ہونے والے امن مذاکرات کے بارے میں اب بھی شکوک و شبہات پائے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بدلے طالبان کی جانب سے سیکیورٹی ضمانت دینے کا معاملہ زیرغور آئے گا تاہم اب بھی مذاکرات میں پیشرفت کا امکان کم ہے۔

اس وقت افغانستان میں ہزاروں کی تعداد میں امریکی فوج موجود ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شام اور عراق کے ساتھ ساتھ افغانستان سے بھی اپنی فوج کا پُرامن انخلاء چاہتے ہیں اور اس کے لیے اپنے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کو افغان طالبان سے مذاکرات کے تمام اختیارات  دیئے ہیں۔

امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد گزشتہ برس سے افغان طالبان اور دیگر فریقین سے مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور پاکستان سمیت ہمسائے ممالک سے بھی گفتگو کی ہے۔

اب تک ہونے والے مذاکرات کے دور میں کسی بھی سطح پر کابل حکومت کو شامل نہیں کیا گیا ہے کیوں کہ افغان طالبان نے مذاکرات پر رضامندی کا اظہار کابل حکومت کی عدم شرکت کی شرط پر کیا تھا۔

 

ٹیگس