طالبان نےافغانستان میں حملے روکنے کا اعلان کیا
طالبان نے دوحہ میں ہفتے کے روز ہونے والے معاہدے کے بعد افغانستان میں حملے روکنے کا اعلان کیا ہے۔
آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہونے سے قبل اس نے ایک روز کیلئے کسی بھی قسم کا حملہ نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
طالبان کا کہنا ہے کہ دوحہ میں ہونے والے معاہدے کے پیش نظر افغانستان میں اقدامات کئے جائیں گے۔
گزشتہ اٹھارہ ماہ سے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا جو بالآخر کل بروز ہفتہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طرفین کے درمیان صلح معاہدے پر منتج ہوا۔
افغانستان کے امور میں امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اور طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا غنی برادر نے دوحہ میں صلح معاہدے پر دستخط کئے۔ اس موقع پر مختلف ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
دوحہ صلح معاہدے کی بنیاد پر طے یہ پایا ہے کہ امریکہ کو آئندہ چودہ مہینوں کے اندر افغانستان کو ترک کر دینا ہوگا۔ اس معاہدے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ دعوی کیا کہ وہ امریکی تاریخ کی سب سے طولانی جنگ کا خاتمہ کر کے اپنے فوجیوں کو انکے گھر واپس لوٹانے کے خواہشمند ہیں۔