اسرائیلی فلائٹس کو سعودی فضائی حدود میں پرواز کرنے کی اجازت
سعودی عرب نے اسرائیلی ایئر لائنس کو باضابطہ طور پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے جسے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے تل ابیب کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
ریاض نے یہ قدم پیر کو اسرائیل سے متحدہ عرب امارات کے لیے جانے والی اسرائيل کی پہلی باضابطہ فلائٹ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے کے بعد اٹھایا ہے۔ گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے سمجھوتہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ فلسطینیوں نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غداری قرار دیا تھا۔ بدھ کو سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ متحدہ عرب امارات آنے اور جانے والی تمام فلائٹوں کو سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔
حالانکہ سعودی عرب نے ابھی تک اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو عام نہیں کیا ہے لیکن اسرائیلی اور امریکی حکام نے دعوی کیا ہے کہ وہ بھی جلد ہی متحدہ عرب امارات کی طرح ہی اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے پر دستخط کرے گا۔ اسرائيلی فلائٹوں کو اپنی فضائي حدود استعمال کرنے کی اجازت دے کر سعودی عرب نے اسرائیلی اور امریکی عہدیداروں کے اس دعوے کے صحیح ہونے کا عندیہ دیا ہے۔
بدھ کے روز صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اب اسرائیل کی کوئی بھی فلائٹ سعودی عرب کے اوپر سے ہوتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے لیے براہ راست پرواز کر سکے گی۔