Jul ۲۰, ۲۰۲۱ ۰۸:۵۰ Asia/Tehran
  • سعودی حکام کی اسلام مخالف پالیسیاں افسوسناک ہیں: یمنی رہنما

بڑے افسوس کی بات ہے کہ سعودی حکام نے عالم اسلام کو مسلسل دوسرے سال حج کی سعادت سے محروم کیا ہے، یہ بات یمن کی حکومت کے نگران اعلیٰ سید عبد الملک بدر الدین الحوثی نے کہی۔

المسیرہ ٹی وی کے مطابق یمنی حکومت کے نگران اعلیٰ اور تحریک انصار اللہ کے سربراہ نے بقرعید کی آمد پر عوام سے خطاب کیا جس میں انہوں نے حج کے سلسلے میں آل سعود کے ذریعے نافذ کی گئی شدید محدودیتوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکام کا یہ اقدام ایک فریضہ الٰہی کے ساتھ زیادتی تھی، وہی فریضہ جسے اللہ تعالیٰ نے ایک عالمی اور بین الاقوامی فریضہ قرار دیا ہے۔

سید عبد الملک بدر الدین الحوثی نے کہا کہ سعودی حکومت کا یہ اقدام قرآنی اصولوں کے سراسر خلاف ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اُس نے عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی رویہ اپنا رکھا ہے۔ یمن کی تحریک انصار اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اس قسم کے سعودی اقدامات دشمنان اسلام کی خدمت کے تناظر میں انجام پاتے ہیں جن پر امریکہ اور برطانیہ کی نگرانی ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ آل سعود نے ایسے عالم میں اس سال مسلسل دوسری بار کورونا کے بہانے سے حج کے سلسلے میں شدید محدودیتیں نافذ کی ہیں کہ سعودی عرب کے مختلف شہروں منجملہ دارالحکومت ریاض میں نائٹ کلبز، میوزیکل شوز اور تفریح کے نام پر رقص و سرور کی دیگر اسلام مخالف تقریبات پوری آب و تاب کے ساتھ منعقد ہو رہی ہیں جن میں شریک دسیوں ہزار کی تعداد میں سعودی مرد اور خواتین ملے جلے مجمع میں ناچتے گاتے اور احکام اسلامی کی کھلی خلافورزی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ سیاسی و اخلاقی المیہ اس قدر واضح و آشکار ہو چکا ہے کہ عالم اسلام کے علاوہ خود سعودی عرب کے اندر بھی ولیعہد محمد بن سلمان کی جارحانہ اور اسلام مخالف پالسیوں پر صدائے اعتراض بلند ہونے لگی ہے۔

ٹیگس