Aug ۱۲, ۲۰۲۱ ۱۸:۳۲ Asia/Tehran
  • طالبان اور امریکہ کا خفیہ سمجھوتہ

امریکی سی آئی اے کے ایک رکن نے طالبان کے ساتھ امریکہ کے طے پانے والے اس خفیہ سمجھوتے سے پردہ اٹھایا ہے کہ طالبان افغانستان میں امریکی جرائم کے سلسلے میں ہیگ کی بین الاقوامی عدالت سے رجوع نہیں کریں گے۔

آریانا نیوز کی رپورٹ کے مطابق رابرٹ رایان نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں جنگ میں آنے والی شدت مکمل طور پر امریکہ کے مفاد میں ہے اور خود وائٹ ہاؤ‎س کا ایک مقصد بھی یہی ہے کہ عالمی برادری، افغان رائے عامہ اور عدالت کو افغانستان میں انجام پانے والے جرائم سے گمراہ رکھے۔

امریکہ نے سن دو ہزار بیس میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے وکیل کا بھی بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اس وقت امریکہ کے وزیر خارجہ نے افغانستان میں امریکی جرائم کا جائزہ لینے کے سلسلے میں عالمی عدالت انصاف کی کارروائی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اس عدالت کی جانب سے امریکی شہریوں کا تعاقب کئے جانے کی ناجائز کارروائی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔

افغانستان میں امریکی جرائم منجملہ عام شہریوں کی لاشوں کو کچلنا اور پھر ان کے ساتھ فوٹو کھینچوانا، خفیہ جیلوں کا قیام اور شادیوں کی تقریب پر حملے غیر انسانی وسائل کا استعمال اور اسی طرح لوگوں کو غرق کر کے ان کے بیان لینا اور اعتراف جرم کروانا ایسے امریکی جرائم ہیں جن کو پردے میں رکھے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 

ٹیگس