مہاجرین کریک ڈاؤن کے خلاف امریکا بھر میں احتجاج، اسکول اور کاروبار متاثر
امریکا بھر میں عوام نے عوامی ہڑتال اور مظاہرے کرکے ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے کئے میں حصہ لیا جس میں تعلیمی مراکز منجملہ اسکول کالجز اور خریداری کے مراکز بند رہے اس عوامی ہڑتال کا مقصد امریکی حکومت کی جانب سے مہاجرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج تھا۔
سحرنیوز/دنیا: یہ ملک گیر عوامی ہڑتال امریکا کے مختلف شہروں میں کی گئی، جسے سینکڑوں سول سوسائٹی تنظیموں کی حمایت حاصل تھی۔
کاروبار بند رہے اوربڑی تعداد میں لوگوں نے اسکول اور کام چھوڑ کر شدید سردی میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج میں شرکت کی۔
بعض خریداری کے مراکز مظاہرین کو پناہ اور کھانا فراہم کرنے کے مقامات میں تبدیل ہوگئے۔ اس ہڑتال کو منظم کرنے میں مینیسوٹا کی طلبہ تنظیموں نے مرکزی کردار ادا کیا۔
یاد رہے مینیسوٹا میں جنوری کے آغاز میں دو مقامی مظاہرین کو سیکیورٹی اہلکاروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ مہاجرین کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے نتیجے میں بغیر وارنٹ گرفتاریوں اور خاندانوں کی جبری علیحدگی جیسے واقعات سامنے آئے ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
امریکن اسلامک کونسل نے، جو اس ہڑتال کے حامی تنظیموں میں شامل ہے، ایک بیان میں کہا ہے کہ “ہم تمام امریکیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ہڑتال میں شریک ہوں اور واضح پیغام دیں کہ امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے اقدامات قابو سے باہر ہو چکے ہیں اور انہیں فوراً روکا جانا چاہیے۔”