Feb ۰۲, ۲۰۲۶ ۱۲:۴۶ Asia/Tehran
  • تاجکستان: بچوں اور نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال پر ممکنہ پابندیوں پر غور

تاجکستان کے وزیر تعلیم و سائنس نے اعلان کیا ہے کہ 14 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کیا جانا چاہیے، اور یہ اقدام نوجوانوں کی ذہنی صحت اور فکری نشوونما کے تحفظ کے مقصد سے نافذ کیا جائے گا۔

سحرنیوز/عالم اسلام:  رحیم سعیدزاده، تاجکستان کے وزیر تعلیم و سائنس نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ 14 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کیا جانا چاہیے اور وہ ذاتی طور پر اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: "طلبہ کو صرف ایسا انٹرنیٹ مواد استعمال کرنا چاہیے جو ان کی فکری اور تعلیمی نشوونما میں مدد دے، اور وزارت تعلیم و سائنس اس سلسلے میں کام کر رہی ہے۔"

وزارت تعلیم کے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے محکمے کے سربراہ، باباجان جہانگیر نے کہا کہ گزشتہ سال "بچوں کے حقوق کے تحفظ" کے قانون میں کی گئی ترامیم کے مطابق بچوں کو نقصان دہ انٹرنیٹ مواد سے بچانے کے لیے قوانین تیار کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا: "اس وقت وزارت میں ایک بین الادارہ جاتی گروپ تشکیل دیا گیا ہے اور ان قوانین کا مسودہ تیار ہو کر حکومت کو پیش کیا جائے گا۔ 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کے لیے نقصان دہ مواد کو محدود کیا جائے گا۔"

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

یہ تجویز گزشتہ سال تاجکستان کی پارلیمنٹ کی رکن دلنواز احمدزاده کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال کو کنٹرول کرنا اور ان کی نشوونما اور صحت کا تحفظ کرنا ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا کے کچھ کارکنوں کا ماننا ہے کہ مکمل پابندی مناسب حل نہیں ہے اور والدین کی نگرانی زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔

عالمی تجربہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کچھ ممالک جیسے آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب، اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی ہے، اور اس کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

ٹیگس