Sep ۱۹, ۲۰۲۱ ۲۱:۲۱ Asia/Tehran
  • چالیس سے زیادہ سعودی قیدیوں کے خلاف  سزائے موت کے احکامات

سعودی عرب کی جیلوں میں قید اکتالیس سے زیادہ قیدیوں کو سزائے موت کا ظالمانہ حکم جاری کردیا گیا ہے۔

سعودی لیکس کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ سعودی حکام ، دوہزار اکیس سے اب تک تقریبا پچاس قیدیوں کے سر قلم کرچکے ہیں جبکہ دیگر اکتالیس قیدیوں کو سزائے موت دی جانی باقی ہے۔

 اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی نمائشی عدالتیں قیدیوں کے خلاف ظالمانہ سزائے موت کا فیصلہ صادر کرتی ہیں جنھیں اپنے دفاع کا کوئی موقع نہیں دیاجاتا ہے اور یہ سزائیں جبری اعترافات کی بنیاد پرہی سنادی جاتی ہیں۔

 سعودی لیکس کے مطابق سعودی حکام ، قیدیوں کے خلاف ظالمانہ فیصلوں پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ سن دوہزار بیس میں ستائیس افراد اور دوہزارانیس میں ایک سو ستاسی افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی اور علاقائی تنظیموں نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی منجملہ جھوٹے مقدمات تیار کرنے اور سماجی شخصیات سے زندہ رہنے کا حق چھین لئے جانے پر بارہا احتجاج کیا ہے لیکن سعودی حکومت بڑی طاقتوں بالخصوص امریکہ کی حمایت کے سہارے غیرمنصفانہ اور ظالمانہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کرتی رہتی  ہے۔

ٹیگس