اسرائیل کی نیند حرام، ایک اور غزہ تیار
مقبوضہ فلسطین کے حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مغربی کنارے کا جنین علاقہ مسلحانہ مزاحمت کا مرکز بن گیا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جنین شہر اور کیمپ آہستہ آہستہ مسلحانہ مزاحمت کے مرکز میں تبدیل ہو گیا ہے۔
مقبوضہ فلسطین کے شمالی مغربی کنارے میں واقع جنین شہر اور کیمپ صیہونی حکومت کے لئے کابوس بن گیا ہے۔
یہ وہ کیمپ ہے جو اب ویسٹ بینک کے دوسرے شہروں کی طرح پتھر بازی اور چاقو سے حملے کا مرکز نہیں رہا بلکہ کیمپ کے نوجوان بڑے اور آتشین ہتھیاروں سے صیہونیوں پر فائرنگ کر رہے ہیں۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ وقت میں جنین مسلحانہ مزاحمت کے مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے اور شمالی مغربی کنارے پر ایک اور غزہ تیار ہو گیا ہے۔
یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مغربی کنارے کا کوئی بھی علاقہ صیہونیوں کے خلاف مسلحانہ کارروائی کے لئے جنین جتنا تیار نہیں ہے۔ جنین کے گلی کوچوں میں شہداء کی تصاویر اور بینر و بورڈ، لوگوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لیتے ہیں۔
ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بہت سارے نوجوان کھلے عام اپنے ہاتھوں میں ہتھیار لئے ہوئے ہیں۔
حماس اور جہاد اسلامی سے لے کر دوسرے مسلحانہ گروہوں کے اس کیمپ میں بڑی تعداد میں حامی اور رکن ہیں جنہوں نے حال ہی میں جنین بریگیڈ کے نام سے تازہ مسلحانہ کارروائیاں انجام دی ہیں اور تل ابیب کو انتقامی کارروائی کی بھاری قیمت چکانے کی بابب خبردار کر چکے ہیں۔
مسلح گروہ جنین بریگیڈ نے گزشتہ فروری کے مہینے میں ایک بیان جاری کرکے کہا تھا کہ کوئی بھی صیہونی محفوظ نہيں ہے اور سارے کے سارے صیہونی جنین بریگیڈ کے نوجوانوں کے حملے کے نشانے پر ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مغربی کنارے پر یہ کیمپ صیہونیوں کے لئے بڑے خطرے میں تبدیل ہو چکا ہے اور کبھ بھی بڑی جھڑپیں شروع ہو سکتی ہیں۔