Jun ۰۱, ۲۰۲۲ ۱۴:۳۶ Asia/Tehran
  • غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ کشیدگی نہ بڑھنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، حماس

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ ثالثی کرنے والوں کو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ کشیدگی نہیں بڑھے گی۔

رپورٹ کے مطابق فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے  ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مصالحت کار تحریک حماس سے اس بات کی ضمانت لینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ کشیدگی نہیں بڑھے گی جبکہ غاصب صیہونی حکومت کے جارحانہ عزائم کے پیش نظر ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔  حماس کے ترجمان نے کہا کہ غاصبانہ قبضے اور صیہونیوں کے دشمنانہ اقدامات کو مد نظر رکھتے ہوئے غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ فائر بندی کی کوئی بات ہی نہیں ہو سکتی ۔

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ مصالحت کاروں نے تحریک حماس کے رہنماؤں کے ساتھ رابطے ایسی حالت میں تیز کر دیئے ہیں کہ غاصب صیہونی حکومت کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں خلاف ورزیاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ مصالحت کاروں کو بتا دیا گیا ہے کہ فلسطینی قوم مذہبی مقدسات کی بے حرمتی کبھی برداشت نہیں کرے گی ۔ اس سے قبل فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے  بھی مصالحت کاروں کو کسی بھی قسم کی ضمانت دیئے جانے کی شدید مخالفت کی تھی ۔

دریں اثنا عرب اکیس ویب سائٹ نے رپورٹ دی ہے کہ صیہونی حکومت کے فوجی حلقوں نے اعلان کیا ہے کہ دو ہزار اکیس کی غزہ جنگ کے بعد سے فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے اپنی بحری طاقت میں مسلسل اضافہ کیا ہے ۔  صیہونی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ بحریہ کی تقویت کے لئے عمل میں لائے جانے والے اسلامی مزاحمتی محاذ کے  اقدامات میں اسکی جیٹ اور تیزفتار بوٹس کو شامل کیا جانا شامل ہے جن کے ذریعے سمندر سےخشکی میں صیہونی آبادی والے علاقوں پر حملے کئے جاسکتے ہیں۔ ان صیہونی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلسطین کی تحریک حماس کی جانب سے مختلف طرح کے دفاعی ہتھیار بھی تیار کئے جا رہے ہیں تاکہ فوجی طاقت کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جاسکے اور اس سلسلے میں مختلف قسم کے ڈرون طیارے اور اینٹی ڈرون میزائل بھی تیار کئے جا رہے ہیں نیز دفاعی ٹنل بنانے کی صلاحیت بھی قابل ذکر ہے۔

غاصب صیہونی حکومت کے سابق فوجی سربراہ جنرل ایال وینکو نے بھی ایک اسرائیلی جریدے میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ تحریک حماس کی جانب سے ایسی تیاری جاری ہے کہ مستقبل میں جنگ ہونے کی صورت میں اپنی فوجی توانائی کا لوہا منوا سکے، اسرائیلی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے اور اسرائیل کے ہر علاقے پر حملہ کر سکے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس غزہ کا محاصرہ توڑنے کی بھی کوشش کر رہی ہے جبکہ اس تحریک کی جانب سے فوجی پیشہ ورانہ تیاری کے ساتھ حملے کرنے کی آمادگی بھی صیہونیوں کے لئے  قابل تشویش ہے۔

ان  باتوں کا اعتراف ایسی حالت میں کیا جا رہا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت نے اس سے پہلے بھی  تحریک مزاحمت کے مقابلے میں بارہا اپنی بے بسی کا اعتراف کیا ہے۔ صیہونی اخبار معاریف نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ تل ابیب پندرہ سال قبل ہی تحریک مزاحمت کے مقابلے میں اپنی دفاعی توانائی باالکل کھو چکی ہے۔

ٹیگس