Mar ۱۵, ۲۰۲۳ ۱۸:۲۱ Asia/Tehran
  • سعودی حکام بھی امریکہ کو آئینہ دکھانے لگے، معاہدے کا اثر نظر آنے لگا

سعودی عرب کے انٹیلی جنس ادارے کے سابق سربراہ نے بتایا ہے کہ امریکہ، ایران - سعودی عرب مذاکرات میں مخلص ثالث نہیں بن سکتا۔

سحر نیوز/ عالم اسلام: سعودی عرب کے انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ترکی الفیصل نے فرانس- 24 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں سے کوئی بھی ایک ایماندار ثالث نہیں ہوسکتا اور سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدے کی ضمانت دے سکتا ہے، جیسا کہ چین نے اس میں مدد کی ہے۔

انہوں نے تاکید کی کہ چین یہ کرنے میں کامیاب رہا کیونکہ اس کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف نے کہا کہ وہ اس معاہدے کی تفصیلات سے واقف نہیں ہیں لیکن انہیں امید ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں مزید مثبت پیشرفت اور تبدیلیوں کا باعث بنے گا۔

ترکی الفیصل نے مزید کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ریاض اور تہران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا یمن سے لے کر لبنان اور شام تک خطے کے تمام مسائل پر اثرات مرتب کرے گا۔

ترکی الفیصل کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب سعودی وزراء کونسل کا اجلاس منگل کو اس ملک کے فرمانروا "سلمان بن عبدالعزیز" کی صدارت میں ریاض کے عرقہ محل میں منعقد ہوا۔

اس سلسلے میں سعودی وزراء کونسل نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس معاہدے میں موجود فریم ورک اور اصولوں کی بنیاد پر دونوں ممالک کے درمیان تعمیری بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس معاہدے کے فوائد دونوں ممالک بالخصوص سعودی قوم پر مرتب ہوں گے اور اس سے علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کا قیام ہوگا۔

ٹیگس