افغانستان: لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے طالبان کا پالیسی بیان سامنے آ گیا
افغانستان کی طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی برقرار رہے گی۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی برقرار رہے گی۔ خواتین کی تعلیم سے متعلق مذہبی اسکالرز میں اختلاف رائے موجود ہے اس لیے تجویز دی گئی ہے کہ لڑکیوں کے اسکول جانے سے زیادہ اہم ہم آہنگی برقرار رکھنا ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ 2 سال مکمل ہونے کے بعد حکومت کواندرونی یا بیرونی کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ملک میں نافذ قوانین کے لیے اسلام سے قانونی حیثیت حاصل کرتے ہیں۔
افغانستان میں طالبان نے 10 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کردی ہے جس کے بعد کلاس 3 کے بعد لڑکیاں تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں گی۔
قبل ازیں طالبان نے لڑکیوں کی سیکنڈری تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی تھی تاہم پرائمری اسکول میں پانچویں جماعت تک لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی تھیں جب کہ خواتین پر ملازمتوں کے دروازے بند ہیں اور انھیں پارکوں، جمز، میلوں اور پارلرز میں بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔
طالبان حکومت کی وزارت اعلیٰ تعلیم نے دسمبر 2022 میں یونیورسٹیوں سے کہا تھا کہ وہ طالبات کو تا اطلاع ثانی داخلے کی اجازت نہ دیں۔
اس فیصلے کے کچھ دن بعد طالبان حکومت نے این جی اوز میں کام کرنے والی افغان خواتین پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔
افغانستان میں خواتین پر تعلیم اور روزگار کے دروازے بند کیے جانے کے خلاف عالمی سطح پر سخت رد عمل دیکھنے میں آ رہا ہے اور خواتین کے کام اور تعلیم پر پابندیوں کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی۔
قابل ذکر ہے کہ طالبان نے اگست سن دو ہزار اکیس میں افغانستان میں اقتدار حاصل کیا تھا اور اس وقت سے اب تک بین الاقوامی سطح پر اپنی موجودگی کو قانونی بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ 15اگست 2021 میں طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالا تھا جب امریکا کی زیر قیادت 20 سال تک لڑنے والی نیٹو فورسز وہاں سے نکل گئی تھیں۔