Oct ۰۴, ۲۰۲۳ ۰۸:۵۷ Asia/Tehran
  • فلسطینیوں خاصطور سے عورتوں پر جاری وحشیانہ حملے نازی ازم اور جنگی جرائم کا واضح نمونہ

غاصب صیہونیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد الاقصی کی مسلسل بے حرمتی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جہاد اسلامی فلسطین اور اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے متحدہ طور پر اس قسم کی جارحیت کا مقابلہ کئے جانے اور صیہونی دشمن کا منھ توڑ جواب دیئے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سحر نیوز/ عالم اسلام: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان محمد حمادہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صیہونی دشمنوں کی جانب سے مسجد الاقصی کے دروازوں پر فلسطینیوں خاصطور سے عورتوں پر جاری وحشیانہ حملے نازی ازم اور جنگی جرائم کا واضح نمونہ ہیں ۔

تحریک حماس کے ترجمان محمد حمادہ نے فلسطینیوں سے اپیل کی کہ وہ مسجد الاقصی کی طرف جائیں اور اپنا موثر کردار ادا کریں اور صیہونیوں کے جرائم کا مقابلہ اور غاصبوں کے مقابلے میں استقامت و مزاحمت کریں۔

فلسطین کی تحریک حماس کے ایک اور ترجمان حازم قاسم نے بھی غاصب صیہونیوں کی جانب سے مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد الاقصی کی بے حرمتی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد الاقصی اور فلسطینی قیدی, فلسطینیوں کی ریڈ لائن ہیں جن کو جارحیت کا نشانہ بنائے جانے کی ہرگز وہ اجازت نہیں دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطین کی غاصب صیہونی حکومت کی انتہا پسند کابینہ نے اسلامی مقدسات کے خلاف مذہبی جنگ شروع کر رکھی ہے اور وہ ہر طرح سے مسجد الاقصی کی شناخت ختم اور اسے زمان و مکان کے اعتبار سے تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ صیہونی انتہا پسند آئے دن مسلمانوں کے قبلہ اول کو جارحیت کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اور مسلمانوں کی اس مسجد کی بے حرمتی کرتے رہتے ہیں اور مسجد میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے رہتے ہیں۔ یہ سب صیہونی فوجیوں کی حمایت و مدد سے کیا جاتا ہے اور فلسطینیوں کی جانب سے مزاحمت کئے جانے پر انھیں براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جہاد اسلامی فلسطین کے رکن احسان عطایا نے بھی غاصب صیہونیوں کی جانب سے مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد الاقصی کی مسلسل جاری بے حرمتی پر ردعمل کااظہار کرتے ہوئے متحدہ طور پر اس قسم کی جارحیت کا مقابلہ کئے جانے اور صیہونی دشمن کا منھ توڑ جواب دیئے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اسلامی و فلسطینی تشخص کی حیثیت سے مسجد الاقصی اور شہر بیت المقدس ہمیشہ ہی غاصب صیہونی حکومت کے نشانے پر رہا ہے۔ جبکہ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے تاکید کی ہے کہ فلسطینی عوام مسجد الاقصی کے بارے میں صیہونی فوجیوں اور صیہونی انتہا پسندوں کی جارحیت کے مقابلے میں خاموش نہیں رہ سکتے اور وہ مسلمانوں کے اس مقدس مقام کے دفاع کا فریضہ پورا کرنے کے اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

صیہونی فوجی اپنے جارحانہ مقاصد کے حصول کے لئے آئے دن غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس کو جارحیت کا نشانہ بناتے رہتے ہیں جس میں فلسطینیوں کی ایک تعداد شہید و زخمی ہو جاتی ہے اور یا اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ تقریبا ایک سو انتہا پسند صیہونی کل لگاتار چوتھی مرتبہ غاصب صیہونی فوجیوں کی حمایت سے مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد الاقصی کے صحن میں داخل ہوئے اور اپنی مذہبی رسومات انجام دیں۔

ٹیگس