فلسطینی قیدیوں کی جان خطرے میں، فوری طبی امداد کی اپیل
فلسطینی قیدیوں کے امور کی کمیٹی نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کی رملہ جیل میں قید زخمیوں اور مریضوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
سحرنیوز/عالم اسلام: فلسطینی قیدیوں کے امور کی کمیٹی نے کہا کہ رملہ جیل میں قید ان قیدیوں اور زخمیوں کی صحت بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے، لیکن اس کے باوجود جیل انتظامیہ ان کے ٹیسٹ اور علاج کے لیے انہیں ہسپتال منتقل کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے ۔
فلسطینی قیدیوں کے امور کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ناقص خوراک اور بنیادی طبی سہولیات کی کمی نے بھی ان قیدیوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
صہیونی نیٹ ورک کان کی جانب سے حال ہی میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق رملہ جیل میں قیدیوں کو بالکل بھی باہر جانے کی اجازت نہیں ہے، حتیٰ کہ ایسے معاملات میں بھی جب کسی وکیل سے ملاقات یا علاج کروانے کی ضرورت ہواوریہ عمل اورملاقاتیں جیل کے اندر اور قیدیوں کو دوسری جگہ منتقل کیے بغیر کیے جاتے ہیں، جس سے تنہائی اور محرومی بڑھ رہی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
جب جیل کا محافظ بیرک میں داخل ہوتا ہے، تو قیدی کو اپنے ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے اور اپنا سر نیچے کی طرف رکھنا ہوتا ہے اورقیدیوں کو آپس میں بات چیت کی اجازت نہیں ہے اور دن میں تین بار خاموشی سے کھانا بیرکوں میں لایا جاتا ہے۔
مذکورہ کمیٹی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکومت کی جیلوں میں نو ہزار تین سے زائد فلسطینی اور عرب قیدی ہیں اور سات اکتوبر دو ہزار تیئیس کوطوفان الاقصی اورفلسطینیوں کی نسل کشی کے آغاز کے بعد سے ان قیدیوں کو سخت ٹارچر کیا جاتا ہے۔
فلسطینی قیدیوں کے امور کی کمیٹی نے کہا کہ ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ہزاروں قیدی غاصب حکومت کی طرف سے مسلط کی گئی مسلسل فاقہ کشی کا شکار ہو گئے ہیں جو تقریباً ڈھائی سال سے جاری ہے اور وہ رمضان المبارک نہ ہونے کے باوجود زیادہ ترروزہ رکھنے پر مجبور ہیں۔
فلسطینی قیدیوں کے امور کی کمیٹی نے کہا کہ قیدیوں میں سے تقریباً ستر خواتین قیدی الدامون جیل میں ہیں اور تقریباً تین سو پچاس بچے مجدو اورعوفر جیلوں میں قید ہیں، جنہیں تشدد اور فاقہ کشی سمیت سخت ترین صورتحال کا سامنا ہے۔
رملہ جیل اسرائیلی حکومت کی قدیم ترین اور خطرناک ترین جیلوں میں سے ایک ہے، جہاں اس سے قبل طبی غفلت اور ٹارچر کے باعث کئی قیدی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اورقیدیوں کو دی جانے والی اذیتیں، تشدد، غذائی قلت اور طبی غفلت کے نتیجے میں صیہونی جیلیں اذیت گاہیں بن چکی ہیں، جس کی وجہ سے زندگی کی بازی ہارنے والے قیدیوں کی تعداد میں ہر روزاضافہ ہوتا جا رہا ہے اس لئے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہئیے کہ وہ فلسطینی قیدیوں کی حمایت کے لیے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں۔