روسی وزارت دفاع کی جانب سے شام اور عراق سے ترکی تیل منتقلی کے راستوں کی نشاندہی
-
روسی وزارت دفاع کی جانب سے شام اور عراق سے ترکی تیل منتقلی کے راستوں کی نشاندہی
روسی وزارت دفاع نے شام اور عراق سے ترکی تیل منتقلی کے تین اصل راستوں کا انکشاف کیا ہے۔
ایتار تاس کی رپورٹ کے مطابق روس کے ایک اعلی فوجی افسر سرگئی ردسکوئے نے کہا ہے کہ روسی وزارت دفاع نے شام و عراق سے ترکی تیل منتقلی کے تین راستوں کا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب میں بحیرہ روم کے ساحل پر ترکی کی بندرگاہیں، شمال میں ترکی میں بیٹمین آئل ریفائنری اور مشرق میں جزیرہ شہر میں واقع بڑا منتقلی مرکز تیل منتقلی کے اصل راستے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ شام سے ترکی کی طرف جاتے ہوئے آئل ٹینکروں پر مشتمل متعدد تصویروں اور ویڈیو فلموں سے روسی وزارت دفاع کی بات صحیح ثابت ہوتی ہے۔
دریں اثنا روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ان کا ملک داعش کے ذریعہ ترکی تیل اسمگلنگ کے ثبوت و شواہد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس نے عالمی برادری کو اس حقیقت سے با رہا باخبر کیا ہے کہ داعش کے ذریعہ شام اور عراق کی آئل فیلڈز سے ترکی سمیت غیر ممالک کو تیل اسمگل کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حقیقت کو ثابت کرنے والے ثبوت و شواہد باضابطہ طور پر اقوام متحدہ اور متعلقہ ممالک کو پیش کئے جائیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ روسی حکام حالیہ ہفتوں میں ترکی پر داعش کے دہشت گردوں کی حمایت اور اس گروہ سے تیل خریدنے نیز فوجی ساز و سامان اس کو دینے کا با رہا الزام لگا چکے ہیں۔