کالعدم تنظیم کے احتجاج سے نظامِ زندگی معطل، مذاکرات شروع
https://urdu.sahartv.ir/news/pakistan-i395469-کالعدم_تنظیم_کے_احتجاج_سے_نظامِ_زندگی_معطل_مذاکرات_شروع
کالعدم تنظیم کے احتجاج کے باعث پنجاب کے مختلف شہروں میں نظامِ زندگی معطل ہے۔ راولپنڈی میں 12 روز سے معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔
(last modified 2026-01-16T11:59:24+00:00 )
Oct ۳۱, ۲۰۲۱ ۰۵:۱۲ Asia/Tehran
  • کالعدم تنظیم کے احتجاج سے نظامِ زندگی معطل، مذاکرات شروع

کالعدم تنظیم کے احتجاج کے باعث پنجاب کے مختلف شہروں میں نظامِ زندگی معطل ہے۔ راولپنڈی میں 12 روز سے معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

احتجاج کو روکنے کے لیے فیض آباد انٹرچینج کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا جبکہ مری روڈ پر کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔

فیض آباد انٹرچینج سے صدر تک مری روڈ دونوں طرف سے کنٹینرز لگا کر بند کردی گئی ہے جبکہ اسلام آباد ایکسپریس وے کا واحد راستہ کھلا ہے۔ وزیرآباد شہر کے داخلی راستوں پر رینجرز تعینات ہے جبکہ ٹریفک کو روک دیا گیا ہے۔ جگہ جگہ رکاوٹیں اور کنٹینرز کی وجہ سے وزیرآباد سے گجرات جانے والے راستے بند اور ایمرجنسی نافذ ہے۔

علاوہ ازیں سرائے عالمگیر اور جہلم کے درمیان جی ٹی روڈ کو خندقیں کھود کر بند کردیا گیا ہے۔

دوسری کالعدم تحریک لبیک پاکستان اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے۔

در ایں اثناء پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے علماء سے ملاقات میں تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کو رہا کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہےکہ فرانس کے سفیر کو نکالنا ہمارے لیے نقصان دہ ہوگا۔

کالعدم ٹی ایل پی کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر علماء و مشائخ سے ملاقات میں علماء کی جانب سے وزیراعظم کو سعد رضوی کو رہا کرنے کی تجویز دی گئی تھی جسے وزیراعظم عمران خان نے ماننے سے انکار کر دیاہے۔ اس بارے میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ معاملہ عدالت میں ہے، عدالت ہی فیصلہ کرے گی، میں غلط روایت نہیں ڈالوں گا، آج دباؤ میں آ کر چھوڑا تو کل دیگر جماعتوں کے ارکان بھی سڑکوں پر آ کر اپنے لیڈر کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ علماء سے ملاقات میں وزیراعظم نے فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے مطالبے سے متعلق اپنا موقف بھی پیش کیا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ فرانس کے سفیر کو نکالنا ہمارے لیے نقصان کا باعث ہے، یورپی ممالک میں پاکستان کی ایکسپورٹ 10 ارب ڈالر ہے، ایسا مطالبہ ماننے سے یورپی ممالک کی مارکیٹ پاکستان کے لیے بند ہو جائے گی، صنعتیں، فیکٹریاں بند ہونے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا، بیروز گاری بڑھے گی، ملک ایسی کسی صورت حال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔