Apr ۰۹, ۲۰۲۲ ۲۲:۰۹ Asia/Tehran
  • پاکستان کی سیاست میں آج کی رات بہت اہم ہوگی، فیصلہ کن گھڑی کا انتظار

پاکستان میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کےلیے قومی اسمبلی کا اجلاس صبح ساڑھے 10 بجے شروع ہوا اور آدھا گھنٹہ جاری رہنے کے بعد ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کردیا گیا جس کے بعد اجلاس دوبارہ دو گھنٹے تاخیر سے ڈھائی بجے شروع ہوا، اب سے کچھ دیر قبل ایوان کی کارروائی کو افطار اور نماز کی وجہ سے ایک بار پھر ساڑھے سات بجے تک روک دیا گیا، ایک مرتبہ پھر ملتوی شدہ اجلاس شروع تو ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس میں آمد کا امکان ہے۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن کے 176 اور حکومت کے تقریبا 100 ارکان شریک ہیں۔

اسپیکر اسد قیصر نے وقفہ سوالات کا آغاز کرادیا تو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے فلور مانگ لیا۔ شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی بنچز سے غدار غدار کے نعرے لگے۔

وفاقی وزیر غلام سرور نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

علاوہ ازیں سینیٹر شبلی فراز نے بھی کہا کہ کابینہ اجلاس میں سرپرائزز پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ عمران خان کسی بھی وقت پارلیمنٹ آسکتے  ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ استعفیٰ وہ دیتے ہیں جو ہار مان لیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پارلیمنٹ ہاوس میں پی ایم چیمبر کی سیکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ وزیراعظم کے چیمبر کے باہر بھی اضافی سیکیورٹی اہل کار لگا دیے گئے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پرسوں پاکستان کی تاریخ میں تابناک دن تھا جب عدالت نے نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کرتے ہوئے وزیراعظم اور ڈپٹی اسپیکر کے غیر آئینی اقدام کو کالعدم قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے اسمبلی اجلاس کے دوران اسپیکر کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ اس وقت نہ صرف توہین عدالت کر رہے ہیں بلکہ آئین شکنی میں بھی ملوث ہور ہےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے 5 رکنی بینچ نے حکم سنایا اور اس کے مطابق اس آرڈر کے علاوہ کسی اور ایجنڈہ آئٹم کو نہیں اٹھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 3 اپریل کو ایک وزیر نے صرف وزیراعظم پاکستان، صدر پاکستان اور ڈپٹی اسپیکر کو آئین شکنی میں پھنسا دیا تھا اور آج کی کوشش کی وجہ نہ صرف وہ لوگ بلکہ اسپیکر اور آپ خود ان جرائم میں ملوث ہیں۔

اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ کے ڈومین میں مداخلت نہیں کر سکتی ہے، ایجنڈا اسپیکر، قومی اسمبلی اور حکومت کا ہوتا ہے۔

ٹیگس