عراق کے خلاف امریکی سعودی جارحیت بلاجواز ہے، پاکستانی سینیٹر
پاکستانی سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر نے عراق کے خلاف امریکہ اور سعودی عرب کی حالیہ جارحیت کو بلاجواز اور ملکوں کے درمیان تعلقات کے اصولوں سے خطرناک انحراف قرار دیا ہے۔
سحرنیوز/پاکستان: سینیٹر علامہ "ناصر عباس جعفری" نے آج اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عراق میں امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ حملے انتہائی تشویشناک ہیں اور یہ ملکوں کی خود مختاری کی خلاف ورزی اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے اصولوں سے خطرناک انحراف کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ کوئی بھی ملک، چاہیے اس کی فوجی طاقت اور اثرو روسوخ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، محض الزام لگا کر کسی دوسرے آزاد ملک پر حملہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین نے کہا کہ پاپولر موبلائزیشن فورسز حملے کو، جو عراق کی مسلح افواج کا قانونی حصہ ہے، جس کے نتیجے میں اربعین کے لیے جانے والے زائرین سمیت بہت سے عام شہری اور فوجی شہید ہوئے، کولیٹر ڈیمج قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کے علاقائی امن و استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور ایسے وقت میں جب خطے کو زیادہ سے زیادہ تحمل کی ضرورت جذبات بھڑک اٹھنے کا موقع ملے گا۔
سینیٹر علامہ ناصر عباس جعفری نے سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ سعودی حکام کی جانب سے گزشتہ روز واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں میں یہ اعتراف کیا گیا کہ یہ حملے کسی دوسرے تنازع میں دوسرے کردار کو پیغام دینے کی غرض سے کیے گئے ہیں۔ یہ نہ صرف نامناسب ہے بلکہ واضح طور پر غیر قانونی بھی ہے۔
انہوں یہ بات زور دے کر کہی کہ عراق کو کسی دوسرے ملک کے اسٹریٹجک اشاروں کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح کےنقطہ نظر علاقائی استحکام کو نقصان پہنچے گا اور ایک ایسی مثال قائم ہوگی جو بین الاقوامی نظام کی بنیادوں کو مزید کمزور کرنے کا سبب بنے گی۔
بدھ کی صبح عراق کو امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ جارحیت کا نشانہ بنایا گیا۔ عراقی پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) نے اعلان کیا ہے کہ مختلف علاقوں میں ان کے متعدد دفاتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پی ایم ایف نے ان حملوں کو "دہشت گردی " قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کم از کم 20 افراد شہید اور 32 زخمی ہوئے۔جبکہ حتمی اعداد و شمار بعد میں جاری کیے جائيں گے۔
تنظیم نے واضح کیا ہے کہ "ہم ان حملوں کو انتہائی خطرناک، کشیدگی میں اضافےکا سبب اور عراق کی خودمختاری کی واضح خلاف ورزی نیز سرکاری سیکورٹی اداروں کو نشانہ بنانے کے مترادف سمجھتے ہیں۔"
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel