Apr ۱۸, ۲۰۲۱ ۰۳:۰۰ Asia/Tehran
  • آیت کا پیغام (5): چاکلیٹ

اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ (سورہ بقرہ،آیت 47)

کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ جیسے ہی بچہ ٹھوکر کھا کر زمین پر گرتا ہے، اسے چوٹ لگتی ہے،زور زور سے رونا شروع کرتا ہے، تو ماں اسے اٹھا کر فورا ایک چاکلٹ اس کے ہاتھ میں تھما دیتی ہے اور چاکلٹ لیتے ہی بچہ ایسے چپ ہوتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور جو اب تک رو رہا تھا اب وہ مسکرانے لگتا ہے! کبھی آپ نے سوچا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟!

وجہ یہ ہے کہ بچے سوچتے ہیں،سمجھتے ہیں اور حساب کتاب کرتے ہیں۔یعنی وہ دل ہی دل میں یہ سوچتے ہیں کہ ’’ٹھیک ہے کہ میں گرا اور مجھے چوٹ لگی،مگر اس وقت میرے پاس کھانے کو ایک مزے دار چاکلٹ بھی ہے۔

تو ہم بھی یہی عرض کرنا چاہتے ہیں کہ انکے سکون،انکے اطمینان اور انکی خوشی کا راز یہ ہے کہ وہ بلا اور نعمت دونوں کو ساتھ میں دیکھتے ہیں اور چونکہ دونوں پر انکی نظر ہوتی ہے تو اس لئے انکے دل کو قرار آجاتا ہے اور وہ مطمئن ہو جاتے ہیں۔یہ سکون حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔

جو بھی اپنی زندگی میں مشکلات اور بلاؤں کا شکار ہے اسکے پاس یقینا بہت سی نعمتیں بھی ہوتی ہیں۔ اگر زندگی کے نشیب و فراز میں مشکلات اور بلاؤں کے ساتھ ساتھ  نعمتوں کو بھی دیکھا جائے تو اس انسان میں کبھی اضطراب اور بے قراری کی کیفیت پیدا نہیں ہوگی۔

یہی وجہ ہے کہ خداوند عالم ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اسکی نعمتوں کو یاد رکھیں۔ارشاد ہوتا ہے:

اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ (سورہ بقرہ،آیت 47)

جو نعمتیں میں نے تمہیں عطا کی ہیں،ان کو یاد کرو۔

 

ماخوذ از:استاد محمد رضا رنجبر

ترجمہ و ترتیب:سید باقر کاظمی

 

ٹیگس