Jan ۱۷, ۲۰۲۱ ۱۰:۵۶ Asia/Tehran
  • ام ابیہا کے شیدائی شہید قاسم سلیمانی۔ ویڈیو+اردو ترجمہ

سردار اسلام، محاذ استقامت کے عظیم اور محبوب کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی صدیقہ کبریٰ حضرت فاطمہ زہرا علیہا سلام سے ایک خاص اور والہانہ عقیدت رکھتے تھے جو انکے اخلاق و کردار میں بھی خوب نمایاں تھی۔ اپنے وطن کرمان میں انہوں نے بیت الزہرا نامی ایک حسینیہ تعمیر کروایا تھا جہاں ہر سال ایام فاطمیہ کے موقع پر نہایت باوقار انداز میں مجالس عزا کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ نیچے دی گئی ویڈیو میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے تئیں انکی والہانہ عقیدت ملاحظہ فرمائیں۔

نیچے دی گئیں سطروں میں سردار اسلام، شہید قاسم سلیمانی کی گفتگو کا اردو ترجمہ ملاحظہ کیجئے:

ایک روایت میں امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ ہم جب کبھی کسی مشکل کا شکار ہوتے اور سختیوں میں گھر جاتے تھے اور سختیوں کے مقابلے میں ہماری طاقت جواب دینے لگتی تھی تو ہم پیغمبر خدا کی پناہ حاصل کرتے تھے۔

میں جو بات آپ حضرات کی خدمت میں اور شہدا کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب کبھی دوران جنگ سختیاں ہم پر آ پڑتی تھیں، اور دباؤ بڑھتا جاتا تھا اور ہم بالکل ناتواں اور بے بس ہو چکے ہوتے تھے تو سوائے ’’زہرا (ع)‘‘ کے ہماری کوئی پناہگاہ نہیں ہوتی تھی اور ہم زہرا (ع) کی پناہ حاصل کرتے تھے۔

والفجر ۸ آپریشن کے موقع پر جب ہماری نگاہ  متلاطم، طوفانی، خوفناک اور ٹھاٹے مارتے ہوئے دریائے اروند پر پڑی اور ہم پر خوف و لرزہ طاری ہوا، ایسے حالات میں نام زہرا (ع) ہی تھا جو ہمارا سہارا بنا۔

ہم نے انہیں دریائے اروند کے کنارے کھڑے ہو کر پکارا، رضاکار مجاہدوں کے آنسوؤں کے درمیان ہم نے زہرا (ع) کی درخشاں تصویر کو تلاش کیا اور دریائے اروند سے یا زہرا کہتے ہوئے گزر گئے اور اس پر قابو پایا۔

کربلا ۴ آپریشن کی شب جب طاقت کے نشے میں چور دشمن نے ہم کو گولیوں، گولوں اور توپوں سے نشانہ بنانا شروع کیا اور خون کی چھوٹی چھوٹی نالیاں دریائے اروند کی جانب بہنا شروع ہوئیں اور ہمارے تمام منصوبے ناکام ہوتے جا رہے تھے، تب بھی سوائے نام زہرا (ع) کے ہماری زبان پر کچھ نہیں تھا!

جس وقت صدام کے سپاہی دریائے اروند کے کنارے کھڑے ہوئے ہمارے جوانوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہے تھے، اُس وقت بھی ہمارا کارآمد اسلحہ نام زہرا (ع) ہی تھا۔

کربلا ۵ آپریشن کے موقع پر بھی جب ہم بے بس ہو گئے اور کچھ نہ سوجھا اور ہم بے بسی کے ساتھ بوبیان کے متلاطم پانی کو تک رہے تھے، اُس وقت بھی ہم نے تمام تر عاجزی کے ساتھ زہرا (ع) کو پکارا۔

میں نے زہرا (ع) کی طاقت کا، انکی مادرانہ محبت کا ہور کے علاقے میں مشاہدہ کیا، ماہی کینال کے مغربی نقطے پر انکی محبت اور طاقت کو دیکھا، بارودی سرنگوں کے میدان کے بیچ و بیچ انکی محبت و شفقت کو محسوس کیا

اس وقت کہ جب آپ مائیں نہیں تھیں اور آپ کے بچے خون میں غلطاں ہو کر تڑپ رہے تھے، اُس موقع پر بھی میں نے انہیں (زہرا ع) دیکھا۔

جس وقت موسیٰ دریائے نیل کے ساحل پر کھڑے تھے اور فرعون کا لشکر ان کی جانب بڑھ رہا تھا اور وہ خوفزدہ نگاہوں سے کبھی نیل کو دیکھتے تو کبھی فرعون کے لشکر کو، اُس وقت خدا نے دریائے نیل کو انکے لئے شکافتہ کر دیا۔ اسی طرح فاطمہ (ع) نے بھی ہور، کربلا ۵، دریائے اروند، کردستان کے سخت اور برفیلے پہاڑوں کی بلندیوں پر، ہمیں اپنی مادرانہ شفقتوں سے نوازا!

 

ٹیگس