یورپ کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے
-
یورپ کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے
یورپ کے مختلف شہروں میں تمام یورپیوں کے شہری حقوق کے تحفظ کے لئے مظاہرے ہوئے ہیں۔
ہفتے کے روز فرانس، اٹلی اور جرمنی کے مختلف شہروں کے باشندوں نے مسلمانوں اور غیر مسلموں سمیت یورپ کے تمام لوگوں کے شہری حقوق کے تحفظ کے لئے مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے تمام افراد اور شہریوں کے لئے امن اور شہری حقوق کے تحفظ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
فرانس کے شہر تولوز میں ہونے والے مظاہرے میں مظاہرین اپنے ہاتھوں میں ایسے بینر اٹھائے ہوئے تھے جن پر لکھا تھا کہ فرانسیسی عوام دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بعض شدت پسندوں کی وجہ سے یورپ میں مسلمانوں کو منفی نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔ فرانس میں ہونے والے مظاہرے میں حالیہ پیرس دہشت گردانہ حملوں میں مارے جانے والوں کو بھی یاد کیا گیا۔
اٹلی کے مسلمانوں نے بھی روم اور میلان میں مظاہرے کرکے مذہب کے نام پر بے گناہ افراد پر حملے کی مذمت کی۔ اٹلی میں ہونے والے مظاہروں میں دہشت گردوں کے ہاتھوں عوام کے قتل عام پر مظاہرین نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ ان مظاہرین نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ دین اسلام، تشدد کا مخالف اور امن کا حامی ہے، پیرس میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کا شکار ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔
روم شہر کے اسلامی ثقافتی مرکز کے سربراہ عبداللہ رضوان نے اس شہر میں ہونے والے مظاہرے میں کہا کہ مسلمانوں کا پیغام واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردانہ واقعات کی وجہ سے سارے مسلمانوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہئے۔ روم میں ہونے والے مظاہرے میں شریک لوگوں نے ایسے پلے کارڈ ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے جن پر " قرآن تشدد کے خلاف ہے" اور " اسلام دین امن ہے" جیسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ میلان میں ہونے والے مظاہرے میں مظاہرین نے "داعش نہیں'" کے نعرے بھی لگائے۔
ادھر جرمنی کے شہر وائن ہائم میں ہونے والے مظاہروں میں مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور دائیں بازو کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی کانفرنس کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ اس شہر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس نے ایک سو بیس سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔
یورپ کے مختلف شہروں میں یہ مظاہرے ایسے حالات میں ہوئے ہیں کہ تازہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پیرس حملوں کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اقدامات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اسلامو فوبیا مخالف ایک تنظیم نے، جس کا فرانس کی اسلامی کونسل سے بھی رابطہ ہے، کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران مسلمانوں کے خلاف بتّیس واقعات رونما ہوئے ہیں۔
فرانس میں اسلامو فوبیا مخالف ایک تنظیم نے بھی کہا ہے کہ اس نے اس طرح کے انتیس واقعات ثبت کئے ہیں۔ اس تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے باوجود کہ پیرس حملے دہشت گردانہ تھے لیکن مسلمانوں کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ متحد ہو جانا چاہئے۔
واضح رہے کہ یورپ اور امریکا کی بہت سی اسلامی تنظیموں نے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی ہے۔