محمدعلی کلے کے بیٹے کے خلاف انتقامی کارروائی
امریکا میں عظیم باکسرمحمد علی کلے کے بیٹے کو مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔
دنیا کے عظیم باکسر محمد علی کلے کے بیٹے محمد علی جونیئر سے پرواز پر سوار ہونے سے قبل واشنگٹن ڈی سی ہوائی اڈہ پر ان کی شناخت کے حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی۔ اس سے ایک روز قبل انہوں نے ایک دیگر ہوائی اڈہ پر اسی طرح کے واقعہ کے بارے میں قانون سازوں کے سامنے بیان دیا تھا۔ امریکی کانگریس کی ڈیموکریٹک رکن ڈیسی واسرمین نے، جو اسی پرواز میں سوار تھیں جس میں محمد علی جونیئر تھے، کہا میرے خیال میں یہ انتقامی حرکت ہے، ان کے مذہب کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔
محمد علی جونیئر نے قبل ازیں کہا تھا کہ 7 فروری کو جب وہ جمیکا سے آئے تھے تو فلوریڈا کے ہوائی اڈہ پر انہیں حراست میں لے کر وفاقی ایجنسیوں نے ان سے ان کے مسلمان ہونے کے بارے میں سوال پوچھے تھے۔
انہوں نے ایوان کی عدالتی کمیٹی کے سامنے اس واقعے کی شکایت کی تھی۔ محترمہ ڈیسی نے کہا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں معلوم ہوتا کہ انہیں واشنگٹن سے پرواز میں سوار ہونے میں پریشانی ہوئی۔ دراصل ان واقعات سے قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کئی مسلم اکثریتی ممالک سے آنے والے لوگوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگادی ہے اور سرحدی سیکورٹی بھی سخت کردی ہے۔
محمد علی جونیئر کے وکیل کرس مینینی کا کہنا ہے کہ علی نے سرکاری شناخت نامہ (آئی کارڈ) پیش کیا اس کے باوجود انہیں اس طرح روکا گیا اور ان کی شناخت کی تصدیق کی گئی۔
محمد علی جونیئر کے والد محمد علی کلے باکسنگ کے سابق ہیوی ویٹ چیمپئن تھے۔ وہ دنیا کےعظیم ترین باکسرتھے۔ محمد علی کلے کا گزشتہ سال جون میں انتقال ہوگیا تھا۔ ان کی تدفین میں سابق امریکی صدربل کلنٹن اور دنیا بھر کے معززین اور اہم شخصیات نے شرکت کی تھی۔