امریکہ میں قونصل خانے کی تلاشی پر روس کا سخت ردعمل
روس کی وزارت خارجہ نے سن فرانسسکو کے روسی قونصل خانے کی تلاشی لیے جانے کو امریکی جارحیت اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
امریکی سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے، ہفتے کے روز، سفارتی آداب کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، سن فرانسسکو میں واقع روسی قونصل خانے کی عمارت کی تلاشی لی ہے۔ روسی قونصل خانے کی تلاشی روسی عملہ اور کارکنان کی غیر موجودگی میں لی گئی۔روسی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں تلاشی کے عمل کو پہلے سے طے شدہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ امریکی اہلکار روسی عملے کی غیر موجودگی میں، دروازے توڑنے کی دھمکی دے کر اندر داخل ہوئے ہیں۔روسی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ماسکو نے امریکی سفارت خانے کو تحریری طور پر اپنے احتجاج سے آگاہ کردیا ہے۔ادھر اقوام متحدہ میں روسی نمائندے ویسلے نبنزیا نے عالمی مسائل اور دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے امریکہ اور روس کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو واشنگٹن تعلقات نامناسب حدتک نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔روسی مندوب نے مزید کہا کہ روس اور امریکہ کے درمیان اختلافات اور کشیدگی کو اقوام متحدہ کی سطح پر علاقائی اور عالمی مسائل کے حل پر اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہیے۔امریکہ نے ماسکو میں اپنی چند سفارتی عمارتوں کی بندش اور سفارتی عملے میں کمی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعرات کو سن فرانسسکو میں روسی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم دیا تھا۔امریکہ نے سن فرانسسکو کے علاوہ، واشنگٹن اور نیویارک میں بھی روس کے بعض نمائندہ دفاتر بند کردیئے ہیں۔اس قبل اٹھائس جولائی کو روس نے سابق امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے درجنوں روسی سفارت کاروں کے انخلا اور نئی پابندیاں عائد کیے جانے کے جواب میں، ماسکو میں امریکی سفارت کاروں کی تعداد میں کمی اور سربرینی سمیت کئی علاقوں میں واقع امریکی سفارت خانے سے وابستہ عمارتوں کو بند کردیا تھا۔