Apr ۱۱, ۲۰۱۸ ۱۴:۴۳ Asia/Tehran
  • شام کے خلاف امریکی قرارداد پر روس کا ویٹو

روس نے شام کے خلاف سلامتی کونسل میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی پیش کردہ قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک شام کے شہر دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں جس کے بارے میں کوئی ثبوت بھی نہیں مل سکا ہے تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اقوام متحدہ میں روسی مندوب واسیلی نبنزیا نے سلامتی کونسل میں کہا ہے کہ روس نے اپنے ویٹو پاور کا اس لئے استعمال کیا ہے تاکہ عالمی امن و سلامتی کا تحفظ کیا جائے اور امریکا کو اس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ عالمی براداری کو اپنے ہی تیار کردہ سینیریو میں الجھائے-

روسی مندوب نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ذریعے پیش کردہ مسودہ قرارداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کو پیش کرنے کا مقصد عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا اور جنگ کی جانب ایک اور قدم بڑھانا تھا-

روسی مندوب نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک ایک آزاد و خود مختار ملک پر کسی ثبوت و شواہد کے بغیر الزام عائد کر رہے ہیں، کہا کہ ابھی تک ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے کہ جس سے یہ ثابت ہو کہ شام کے شہر دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے-

دوسری جانب  اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے بھی کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی خریداری کا مقصد یمن میں مظلوم عوام کے قتل عام میں اضافہ کرنا اور شام کے خلاف نئی جنگ کا محاذ کھولنا ہے-

انہوں نے کہا کہ یورپ منجملہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نہیں چاہتے کہ علاقے میں جنگ کا خاتمہ ہو- شام کے مستقل مندوب نے کہا کہ در اصل مغربی ممالک سے ہی مہلک ہتھیاروں کی روک تھام کے قوانین کی دھجیاں اڑانے کا عمل شروع ہوا۔

انہوں نے برطانیہ اور فرانس کے دوہرے معیار کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ روس پر بے جا تنقید اور شکوک وشبہات سمجھ سے بالاتر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس پر تنقید کی وجہ یہ ہے کہ وہ  ہمارے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

بشار الجعفری نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ ایسے جھوٹے الزامات اور منصوبوں کے خلاف ڈٹ جائے تاہم امریکہ، برطانیہ اور فرانس سلامتی کونسل پر دباؤ  ڈال رہے ہیں جن کا مقصد اپنی خواہشات کو منوانا ہے-

شامی مندوب نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دمشق کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرتا ہے، کہا کہ شامی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے ادارے او پی سی ڈبلیو کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے تاکہ امریکا، برطانیہ اور فرانس کے جھوٹ کو بے نقاب کرے-

واضح رہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافاتی صوبے غوطہ شرقی کے شہر دوما میں سرگرم دہشت گرد گروہ جیش الاسلام نے شامی حکومت اور فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے-

شامی حکومت نے دہشت گردوں اور ان کے حامی ملکوں کے الزام کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہے-

دہشت گردوں کے اس بے بنیاد الزام کے بعد دہشت گردوں کے حامی مغربی اور عرب ملکوں کے ذرائع ابلاغ نے بھی نفسیاتی جنگ شروع کر دی ہے-

 

ٹیگس