مسئلہ فلسطین میں سلامتی کونسل ایک بار پھر لاچار و بےبس نظرآئی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مسئلہ فلسطین کے حل کے تعلق سے ایک بار پھر بے بس دکھائی دی اور صیہونی حکومت کے مجرمانہ اور وحشیانہ اقدامات کے خلاف نیز فلسطینی عوام کی حمایت میں عالمی برادری کی کوششوں کو امریکا نے ایک بار پھر ویٹو کردیا جس کی وجہ سے سلامتی کونسل کی ساکھ اور حیثیت پہلے سے بھی زیادہ متاثر ہوگئی۔
ایک ایسے وقت جب فلسطینی عوام مسلسل دسویں جمعے کو پرامن واپسی مارچ میں شریک تھے صیہونی فوج نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کرکے ایک فلسطینی خاتون کو شہید اور ایک سو سے زائد فلسطینیوں کو زخمی کردیا۔ صیہونی فوج کے ان وحشیانہ اقدامات کے خلاف کویت کی جانب سے فلسطینیوں کی حمایت میں پیش کی گئی قرارداد کو سلامتی کونسل جیسے عالمی ادارے میں امریکا نے ویٹو کردیا تا کہ صیہونی حکومت اپنے وحشیانہ اقدامات کی انجام دہی میں مزید گستاخ ہوجائے اور یہ غاصب عالمی برادری اوربین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتی رہے۔
جمعے کی رات کویت نے سلامتی کونسل نے فلسطینیوں کی حمایت اور غاصب صیہونی حکومت کے مظالم کے خلاف ایک قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے جارحانہ اور وحشیانہ اقدامات پر بحث کی جائے لیکن کونسل کے گیارہ ارکان کی حمایت کے باوجود امریکی ویٹو کی وجہ سے اس قراراد کو ایجنڈے سے خارج کردیا گیا۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں فرانس کے مندوب فرانسوا دلاترے نے مذکورہ امریکی ویٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے سلامتی کونسل کا وقار مجروح اور اس کی ساکھ اور زیادہ کمزور ہوگی۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب ریاض منصور نے بھی امریکی ویٹو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کو چاہئے کہ وہ عالمی برادری کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کو قبول کرے اور ان پر عمل کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ سلامتی کونسل ایک مستقل رکن کے منفی ووٹ اور جانبدارانہ ویٹو کی وجہ سے بحران فلسطین کے بارے میں مسلسل بے بس اور لاچار دکھائی دیتی ہے۔ سلامتی کونسل میں کویت کے مندوب منصور العتیبی نے بھی کہا کہ امریکی ویٹو سے ایسا لگتا ہے کہ صیہونی حکومت بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کرنے سے مستثنی ہے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ویٹو سے بحرانوں اور کشیدگیوں میں اضافہ ہوگا۔
ترکی کے ایوان صدر کے ترجمان ابراہیم کالن نے بھی اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت میں کویت کے مسودہ قرارداد کو امریکا کے ذریعے ویٹو کردیا جانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے اور اس سے غاصب صیہونی حکومت کے لئے امریکا کی حمایت ایک بار پھر ثابت ہوگئی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکا کی اسرائیل کے حق میں قرارداد کو مسترد کردیا۔ عرب میڈیا کے مطابق سلامتی کونسل نے اسرائیل کے حق میں امریکی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی قرارداد کے حق میں سوائے امریکا کے اور کسی کا ووٹ نہیں آیا جب کہ امریکی مندوب نکی ہیلی نے مضحکہ خیز موقف اپناتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی مظلوم ہیں اور انہیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
امریکی قرارداد کی روس کویت اور بولیوی نے مخالفت نے کی جبکہ گیارہ ملکوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
اسرائیل کی حمایت میں امریکی مسودہ قرارداد کو بری طرح سے مسترد کردیئے جانے سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ ٹرمپ ا نتظامیہ عالمی سطح پر خاص طور پر مسئلہ فلسطین کے تعلق سے بالکل الگ تھلگ پڑگئی ہے۔