Jul ۱۱, ۲۰۱۸ ۱۴:۵۲ Asia/Tehran
  • امریکی عدالت میں ایک سالہ مہاجر بچے پر مقدمہ اور سزا

امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فونیکس کی عدالت نے ایک سالہ بچے پر جو اپنے والدین کے ہمراہ امریکا میں مہاجر کے طور پر داخل ہوا تھا مقدمہ چلا کر اس کے خلاف فیصلہ سنایا ہے۔

امریکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فونیکس کی عدالت نے ایک سالہ مہاجر بچے پر مقدمہ چلا کر اس کے خلاف فیصلہ سنایا ہے کہ اسے امریکا سے باہر واپس بھیجا جائے۔

اس ایک سالہ بچے کو جو والدین کے بغیر عدالت میں حاضر ہوا تھا اب فیصلے کے مطابق واپس ہندوراس بھیجا جائے گا جبکہ اسی عدالت نے بچے کو مہاجر باپ کو پہلے ہی ہندوراس واپس بھیج دیا تھا-

جس وقت اس معصوم بچے کے خلاف امریکی عدالت میں کارروائی چل رہی تھی وہ دنیا سے بے خبر پلاسٹیک کی گیند سے کھیل رہا تھا اور پھر اسی دوران اس نے شیشی سے دودھ  بھی پیا اور آخر میں دیگر معصوم بچوں کی طرح گریہ بھی کرنے لگا-

عدالت کے جج جان ریچرڈسن نے اس موقع پر کہا کہ اس معصوم بچے کے خلاف عدالتی کارروائی اور اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے پر مجھے شرم محسوس ہو رہی ہے کیونکہ یہ بچہ تو امریکا کے امیگریشن قانون سے بالکل بے خبر ہے-

اس سے قبل امریکا میں قانون دانوں اور وکلا نے بھی اعتراض کیا تھا کہ عدالتوں میں بچوں کی پیشی ان کے لئے وحشتناک، بے چین کر دینے والی اور پریشان کن ہے-

خبروں میں کہا گیا ہے کہ ایسی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ تارکین وطن اور خاص طور پر تارکین وطن بچوں کے لئے امریکا کی امیگریشن عدالت میں پیروی کے لئے وکیل موجود ہوں-

امریکی صدر ٹرمپ کی زیرو ٹالرینس کی پالیسی کے تحت تارکین وطن والدین سے ہزاروں معصوم بچوں کو جدا کر دیا گیا اور انہیں گرفتار کرکے جیل نما کیمپوں میں رکھا گیا ہے- ٹرمپ انتظامیہ کے اس قسم کے غیرانسانی اور ظالمانہ اقدامات کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی-

ٹیگس