پابندیوں کا نفاذ اور حواس باختہ امریکی حکام
امریکی حکومت نے غرق شدہ ایرانی آئیل ٹینکر اور کئی سال پہلے ہی بند ہو جانے والے ایک ایرانی بینک پر پابندیاں عائد کرنے کے تعلق سے اپنی فاش غلطی کے بارے میں کوئی وضاحت پیش کرنے سے انکار کر دیا۔
امریکی میگزین نیوز ویک نے گذشتہ برس حادثے کا شکار ہونے والے ایران کے بحری آئل ٹینکر اور کئی سال قبل بند ہو جانے والے ایرانی بینک پر بھی امریکی حکومت کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر محمدجواد ظریف کے ٹوئٹ کو نشر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی حکام نے اس فاش غلطی کے بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے-
ایران کے وزیرخارجہ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ایران مخالف پابندیوں کی فہرست بڑھانے کے لئے امریکی حکام نے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو کر ایک ایسے بینک پر بھی پابندی لگا دی ہے جو چھے سال پہلے ہی بند ہو چکا تھا-
ایرانی وزیرخارجہ نے لکھا کہ امریکی حکام نے اسی طرح ایک ایسے ایرانی بحری آئل ٹینکر پر بھی پابندی لگا دی جو گذشتہ برس غرق ہو گیا تھا-
انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ایران کے سانچی بحری جہاز یا آئل ٹینکر کے غرق ہونے کی خبر پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ نے دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ تات نامی بینک بھی جو امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے، چھے سال پہلے بند ہو چکا تھا-
امریکی وزارت خزانہ نے اپنی پابندیوں کی فہرست میں ایرانی آئل ٹینکر سانچی اور تین دیگر آئل ٹینکروں کے نام شامل کئے ہیں- جبکہ سانچی آئل ٹینکر میں گذشتہ سال سمندر میں آگ لگ گئی تھی جس میں عملے کے متعدد افراد جل کر لقمہ اجل بن گئے تھے۔