امریکی وزیرخارجہ کے بیان پر ایرانی وزیرخارجہ کا ردعمل
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے ایرانی عوام کے خلاف امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے ردعمل میں کہا ہے کہ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کی بنا پر امریکا کا مواخذہ اور اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اپنے ٹوئیٹر پیج پر لکھا ہے کہ امریکی وزیرخارجہ مائیک پمپیئو ایرانی حکومت کو واشنگٹن کی غیر قانونی پابندیوں کے نتائج کا ذمہ دار قراردے رہے ہیں جن کی وجہ سے بینکنگ سروس معطل ہوگئی ہے اور نتیجے میں ایرانی عوام کو خوراک اور ادویات تک رسائی میں مشکل ہو رہی ہے۔
ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایرانی حکومت امریکا کی تمام تر پابندیوں کے باوجود ضروری ادویات اور اشیائے خوراک فراہم کرے گی لیکن امریکا کا اس کے اس اقدام کی بناپر مواخذہ ہونا چاہئے۔
امریکی وزیرخارجہ پمپیئو نے بی بی سی نیوز چینل سے اپنی گفتگو میں کھلی تضاد بیانی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے حق میں ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ادویات اور طبی اشیا پر پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔ امریکی وزیرخارجہ نے یہ دعوی ایک ایسے وقت کیا ہے جب ہیگ کی عالمی عدالت نے تین اکتوبر کو ایران پر امریکی پابندیوں کے خلاف فیصلہ سنایا تھا اور کہا تھا کہ انسان دوستانہ امور منجملہ خوراک و ادویات پر پابندی غیر قانونی ہے۔
امریکی وزیرخارجہ اپنے اس انٹرویو میں ایران مخالف امریکی پابندیوں کا یورپ کی طرف سے ساتھ نہ دینے کے تعلق سے امریکا اور یورپی یونین کے درمیان پائے جانے والے گہرے اختلاف کو نہیں چھپا سکے اور پابندیوں کے تعلق سے ٹرمپ کی پسپائی کو اس طرح سے ظاہرکیا کہ امریکا نے آٹھ ملکوں کو عارضی طور پر اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ ایران سے تیل خریدسکتے ہیں لیکن مستقبل میں یہ پابندیاں مزید سخت کی جائیں گی ایران مخالف پابندیوں کا دوسرا مرحلہ جس میں ا یران کے تیل، بینکنگ سیکٹر اور تجارتی معاملات نشانہ بنایا گیا ہے پانچ نومبر سے شروع ہوا ہے یہ وہ پابندیاں جن میں براہ راست ایرانی عوام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس درمیان برطانیہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن آئمو کےسکریٹری جنرل نام ایک خط میں امریکا کی غیر قانونی پابندیوں کی شکایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ان پابندیوں کے اثرات کا خصوصی طور پر جائزہ لے۔
برطانیہ میں ایران کے سفیر حمید بعیدی نژاد نے بتایا کہ ایرانی سفارتخانے نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سکریٹری جنرل کے نام خط میں ایرانی بحری جہازوں پر امریکا کی غیر قانونی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئےکہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے اصولوں کے منافی اور سمندری جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے مراسلے میں ایرانی سفارتخانے نے مطالبہ کیا ہے کہ ان پابندیوں کا آئمو کی کونسل میں جائزہ لیا جائے۔