Jan ۱۶, ۲۰۱۹ ۱۵:۲۳ Asia/Tehran
  • برطانیہ میں قبل از وقت انتخابات کرائے جانے کا امکان (تفصیلی خبر)

برطانوی پارلیمنٹ میں بریگزٹ ڈیل مسترد کردیئے جانے کے بعد اب وزیرا‏عظم تھریسا مئے کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی پیش کر دی گئی ہے جس پر آج کسی وقت رائے شماری کرائے جانے کا امکان ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت کے رہنما جیرمی کوربن نے ٹھریسا مئے کے خلاف قرارداد پیش کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو تباہ کن شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی حکومت نے عوام اور پارلیمنٹ کا اعتماد کھو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ ارکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ وزیراعظم تھریسا مئے کو ان کے عہدے سے برطرف کریں۔ پروگرام کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ بدھ کے روز وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرے گی-

تحریک عدم اعتماد کی منظوری کی صورت میں وزیراعظم تھریسا مئے کو دو ہفتے کے اندر اندر پارلیمنٹ سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا بصورت دیگر ملک میں عام انتخابات کا انعقاد کرایا جائے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے وزیر اعظم تھریسامے کے معاہدے پر برطانوی پارلیمنٹ میں منگل کو ووٹنگ ہوئی جس میں چار سو بتیس اراکین نے اس کے خلاف ووٹ دیے جبکہ دوسو دو نے معاہدے کی حمایت کی۔

دوسری جانب یورپی کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک نے برطانونی پارلیمنٹ کے فیصلے کے بعد کہا ہے کہ اس صورتحال کا مثبت حل یہ ہے کہ برطانیہ یورپی یونین میں باقی رہے۔البتہ یورپی کمیشن کے سربراہ جان کلوڈ یونکر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ بدنظمی کے ساتھ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کا خطرہ اب بھی باقی ہے۔ یونکرنے اس کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین بغیر معاہدے کے بھی برطانیہ کی اس اتحاد سے علیحدگی کے لیے تیار ہے۔

ادھر فرانس کے صدر عما نوئیل میکرون نے بریگزٹ معاہدے کو برطانوی پارلیمنٹ سے مسترد کردیئے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین نے اس معاہدے کے حوالے سے جو بھی ممکن ہوسکتا تھا انجام دیا ہے۔

جرمنی کے وزیرخزانہ اولیف شولز نے بھی کہا ہے کہ بریگزٹ کا مستقبل انتہائی تاریک دکھائی دیتا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ سے بریگزٹ معاہدے کو مسترد کیا جانا وزیراعظم تھریسا مئے کی حکومت کے لیے اب تک سب سے بڑی ناکامی ہے جو پہلے ہی عوام میں اپنی مقبولیت کھوچکی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بریگزٹ کی ناکامی کے بعد برطانیہ میں قبل از وقت انتخابات کا قوی امکان پیدا ہوگیا ہے۔

ٹیگس