بریگزٹ پربرطانوی وزیراعظم بے اختیار مستعفی ہونے کا عندیہ
برطانوی وزیر اعظم نے مستعفی ہونے کا عندیہ دے دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے کنزرویٹو پالیمنٹری گروپ 1922 کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے کہا کہ میں مستعفی ہو جاوں گی لیکن میری پیش کردہ ڈیل کی حمایت کی جائے، بریگزٹ پر آیندہ مذاکرات کا حصہ بھی نہیں ہوں گی۔
برطانوی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد کے ذریعے بریگزٹ معاملے پر کسی بھی قسم کے فیصلے کا اختیار اپنی وزیراعظم تھریسامے سے لیکر پارلیمنٹ کو منتقل کردیا۔ قرار داد کے حق میں 329 جب کہ مخالفت میں 302 ووٹ پڑے۔
وزیراعظم تھریسامے کوناکامی اپنے ہی اراکین کی بغاوت کے باعث ہوئی، قرار داد سر اولیور لیٹوین نے پیش کی۔ یہ قرار داد لندن میں دس لاکھ شہریوں کے سڑکوں پر نکل آنے اور وزیراعظم تھریسامے کے خلاف مظاہروں کے بعد پیش کی گئی جس میں مظاہرین نے بریگزٹ کا فیصلہ عوام کو دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
قبل ازیں اسی پارلیمنٹ نے اپنی وزیراعظم تھریسامے پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے برگزٹ ڈیل سے متعلق ہر قسم کا فیصلہ کرنے کا اختیار تفویض کیا تھا تاہم جیسے جیسے بریگزٹ کے معاملات آگے بڑھتے رہے اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین بھی عدم اعتماد کا اظہار کرنے لگے۔
واضح رہے کہ برطانوی عوام نے گزشتہ برس ایک ریفرنڈم کے ذریعے یورپی یونین سے انخلاء کے حق میں فیصلہ دیا تھا جس پر بریگزٹ مخالف اراکین اور وزراء نے استعفیٰ بھی دیا تھا اور تاحال یہ سیاسی بحران ختم ہونے کا نام نہیں رہا حالانکہ یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے ڈیڈ لائن بھی قریب ہی ہے۔