Jan ۱۰, ۲۰۲۰ ۱۹:۴۳ Asia/Tehran
  • جنرل قاسم سلیمانی کے خون نے دیا ٹرمپ کو ایک اور جھٹکا

بغداد حکومت کے سرکاری مہمان ، شہید جنرل قاسم سلیمانی کے کاررواں پر دہشت گرد امریکی فوج کے فضائی حملے کے بعد خود امریکی سیاستدانوں نے ٹرمپ کی جنگ پسندی کے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے ان کے جنگ شروع کرنے کے اختیارات کو محدود کرنے کی تگ و دو شروع کردی ہے ۔ اسی سلسلے میں امریکی ایوان نمائندگان نے ایک قرار داد پاس کی ہے جس کے حق میں چند ریپبلیکن اراکین نے بھی ووٹ دیئے ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان نے جمعرات کی شب،امریکی صدر کے جنگ شروع کرنے کے اختیارات کو محدود کرنے کی قرار داد پاس کردی 
یہ قرار داد ایک سو چورانوے کے مقابلے میں دو سو چوبیس ووٹوں سے پاس ہوئی۔ 
امریکی ایوان نمائندگان میں امریکی صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی یہ قرارداد ایسی حالت میں پاس ہوئی ہے کہ ٹرمپ نے جمعرات کو ایوان نمائندگان کے ریپبلیکن اراکین سے کہا تھا کہ اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیں۔ 
لیکن ان کی اس اپیل کے باوجود تین ریپبلیکن اراکین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور سرانجام یہ قرار داد دوسو چوبیس ووٹوں سے پاس ہوئی اور اس کی مخالفت میں کل ایک سو چورانوے ووٹ پڑے ۔
ایک ڈیموکریٹ سینیٹر نے اسی طرح کی قرار داد سینیٹ میں بھی پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوان نمائندگان سے صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے والی قرار داد پاس ہونے کے بعد کہا ہے کہ ایوان نمائندگان کے اس اقدام نے ، ایران کے خلاف فوجی اقدام کی تفصیلات کی اطلاعات فاش ہوجانے کا امکان بڑھا دیا ہے۔ 
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ بدھ کو عراق میں امریکا کے دہشت گرد فوجی اڈوں پر ایران کے جوابی میزائلی حملوں کے بعد امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا تھا کہ پاسداران انقلاب کی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے کاررواں پر ٹرمپ کے حکم پر انجام پانے والے فضائی حملے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر، ایوان نمائندگان ایک ایسی قرار داد پاس کرنا چاہتا ہے جس کے نفاذ سے صدر امریکا کے جنگی اختیارات محدود ہوجائیں گے۔
نینسی پلوسی نے اس بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ جمعے کو ٹرمپ حکومت نے ایک غیر مناسب اور اشتعال انگیز فوجی حملے میں ایران کے ایک اعلی فوجی عہدیدار کو نشانہ بنایا۔ 
انھوں نے اپنے اس بیان میں کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس نے یہ حملہ کانگریس سے مشورہ کئے بغیر کیا ہے اور اس سے مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھ گئ ہے ۔ 
امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کا یہ بیان جاری ہونے سے پہلے ، ٹرمپ حکومت کے چند اعلی عہدیداروں نے امریکی پارلیمنٹ کانگریس کے مختلف اداروں اور کمیٹیوں کے اراکین کے ساتھ میٹنگ میں جنرل قاسم سلیمانی کے کاررواں پر دہشت گرد امریکی فوج کے فضائی حملے کے تعلق سے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی۔
لیکن امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نے ان کے دلائل کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے صدر کے جنگی اختیارات محدو کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ 
امریکا کی دہشت گرد فوج نے جنرل قاسم سلیمانی کے کارواں پر دہشت گردانہ فضائی حملہ ایسی حالت میں کیا تھا کہ وہ حکومت عراق کی دعوت پر سرکاری دورے پر بغداد گئے تھے۔ دہشت گرد امریکی فوج کے اس دہشت گردانہ فضائی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھ ہی عراق کی عوامی رضا کار فورس کے ڈپٹی کمانڈر جنرل ابو مہدی الہمندس اور آٹھ دیگر افراد بھی شہید ہوگئے تھے۔ 
اس کھلی جارحیت کے جواب میں، عراق میں دہشت گرد امریکی فوج کے اڈوں پر ایران کے میزائلی حملوں میں کم سے کم اسّی دہشت گرد امریکی فوجی ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوگئے ۔ 

ٹیگس