وائٹ ہاؤس کے رخ میں تبدیلی، کیا امریکا، چین کے ردعمل سے ڈر گيا؟
امریکا کے اعلی عہدیدار نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ دانستہ طور پر نہیں ہوا ہے۔
روئٹرز نیوز ایجنسی نے امریکا کے اعلی عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ کورونا وائرس کو جان بوجھ کر نہیں پھیلایا گيا ہے۔ مذکورہ عہدیدار سے چین کے ووہان شہر کی کسی لیبارٹری سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ شروع ہونے کے بارے میں سوال پوچھا گیا تھا جس کے جواب میں انھوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ کورونا وائرس کہاں سے شروع ہوا ہے۔ اگرچہ روئٹرز نے اس امریکی عہدیدار کا نام ظاہر نہیں کیا ہے لیکن پریس ٹی وی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکا کے چیف آف جوائنٹ اسٹاف نے کورونا وائرس کے آغاز کے بارے میں اپنے ملک کے صدر کے موقف پر سوال کھڑا کیا ہے۔
جنرل مارک ملی نے ٹرمپ کے اس موقف پر کہ کورونا وائرس چین کی ایک تجربہ گاہ میں تیار کیا گيا اور وہیں سے یہ پوری دنیا میں پھیلا ہے، سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو شواہد اور دستاویزات موجود ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا وائرس ایک قدرتی وائرس ہے اور انسان کے ہاتھوں کا بنا ہوا نہیں ہے۔ انھوں نے امریکی وزارت دفاع کے ساتھ ایک پریس کانفرس میں اس سوال کے جواب میں کہ کیا کورونا کا پھیلاؤ اتفاقی بات ہے یا اسے جان بوجھ کر ماحولیات میں چھوڑا گيا ہے؟ کہا کہ ہمارے پاس ان میں سے کسی بھی بات کو ثابت کرنے کے لیے کوئي ثبوت اور دستاویز نہیں ہے لیکن جو دستاویزات موجود ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس وائرس کا پھیلنا، جان بوجھ کر کیا گيا کام نہیں ہے۔
اس سے پہلے امریکا کے صدر اور وزیر خارجہ کئي بار چین پر الزام لگا چکے ہیں کہ اس نے ووہان شہر کی کسی لیبارٹری میں کورونا وائرس تیار کیا ہے اور یہ وہیں سے پوری دنیا میں پھیلا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ امریکی حکام نے کھیل کا میدان کیوں بدل دیا ہے اور بیجنگ کے خلاف مسلسل زہر افشانی کے بعد وائٹ ہاؤس کے پچھلے دعووں کو کیوں غلط ثابت کیا جا رہا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکام کے موقف میں یہ تبدیلی، ان کے بیانوں پر چین کے ردعمل اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگي میں شدید اضافے کے خوف کا نتیجہ ہے۔ ٹرمپ اور پومپیئو کے الزامات پر چین کے ردعمل کی جانب سے امریکا کی تشویش کے نتیجے میں ان دنوں ایشیائي منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھی گراوٹ آ گئي ہے۔ فرانس پریس کے مطابق ایکسی کورپ کے تجزیہ نگار اسٹیفن اینز کا کہنا ہے کہ چین کے ممکنہ سخت ردعمل کو مد نظر رکھتے ہوئے تیل کی منڈیوں میں بڑے محتاطانہ انداز میں سودے ہو رہے ہیں۔ البتہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بیجنگ نے اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس کو کوئي دھمکی دی ہے یا نہیں؟
چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لیے چین پر الزام لگائے جانے کے بعد امریکی وزیر خارجہ کو شیطان کہا تھا۔