Oct ۱۴, ۲۰۲۰ ۱۲:۳۳ Asia/Tehran

جنگ بندی کے اعلان کے باوجود آذربائیجان اور آرمینیا ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

مسلحانہ جنگ سے کسی کو کوئی فائدہ نہيں ہوتا بلکہ اس سے عام شہریوں کو ہی تباہی اور بربادی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان 10 اکتبوبر کو جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق ہوا تھا تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ اور جھڑپوں کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

جنگ بندی کے مذاکرات میں ثالث کا کردار روس نے ادا کیا تھا جس کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ دونوں فریقین نے انسانی بنیادوں پر 10 اکتوبر کو 12 بجے سے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب جمہوریہ آذربائیجان نے دعوی کیا ہے کہ اس نے دو ہفتے کی جنگ کے بعد آرمینیا کے زیر قبضہ متنازع علاقے ناگورنو-قرہ باغ میں واقع ہادروت شہر آزاد کرا لیا ہے۔ حال ہیں اس متنازع علاقے سے رپورٹنگ کرنے والے کچھ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کے اس دعوے کے باوجود، شہر کا کچھ حصہ ابھی بھی باکو کے قبضے میں نہیں ہے۔

ٹیگس