Jan ۱۴, ۲۰۲۱ ۰۷:۳۶ Asia/Tehran
  • جاتے جاتے امریکی صدر ٹرمپ کے مؤاخذے کا بل بھی منظور

امریکی ایوان نمائندگان نے صدر دونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کا بل منظور کر لیا ہے۔

فارس نیوز کے مطابق یہ بل ایک سو ستانوے ووٹوں کے مقابلے میں دوسو انتیس ووٹوں سے منظور کر لی گئی ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈیموکریٹس نمائندوں کے ساتھ ساتھ خود ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی ریپبلیکنز کے دس نمائندوں نے بھی انکے مواخذے کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کا یہ بل اگر امریکی سینٹ میں بھی منظور کر لیا جاتا ہے تو پھر وہ اپنے مواخذے سے بچ نہیں پائیں گے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے مواخذہ بل کے جائزہ اجلاس میں کہا کہ ٹرمپ کو اقتدار چھوڑ کر جانا ہوگا۔ پلوسی کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکیوں کے لئے ایک واضح اور موجودہ خطرہ شمار ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ چند گھنٹے قبل امریکی ایوان نمائندگان نے ملکی صدر کے مواخذے کا بل اس لئے منظور کیا کہ گزشتہ ہفتے بدھ کے روز ڈونلڈ کے اکسانے پر انکے حامیوں نے امریکی کانگرس کیپتل ہیل پر اُس وقت دھاوا بول دیا تھا کہ جب امریکہ کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کو ملنے واللے الیکٹورل ووٹس کی توثیق کے لئے اجلاس ہو رہا ہے۔

اس موقع پررونما ہونے والی جھڑپوں اور پر تشدد واقعات میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کانگریس پر ہوئے حملے کو ایک دہشتگردانہ اقدام قرار دیا تھا۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ سینیٹ میں اکثریتی دھڑے کے سربراہ مچ مک کونل نے کہا ہے کہ جو بائیڈن کی صدارت کے آغاز سے قبل سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مقدمہ شروع نہیں ہوپائے گا۔ مک کونل نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کے متعلق ری پبلکن سینٹروں کے نام اپنی یادداشت میں لکھا ہے کہ، ووٹنگ کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ سینیٹ کے اجلاس کے دوران قانونی دلائل سننے کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے۔

باوجود اس کے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت ۲۰ جنوری کو ختم ہو جائے گی اور صرف ایک ہفتہ ہی اس میں باقی رہ گیا ہے، مگر اس وقت ٹرمپ اپنے غیر منطقی، انتہا پسندانہ، جارحانہ، نسل پرستانہ اور بے سوچے سمجھے اقدامات کے سبب اندرون ملک اس قدر غیر مطلوب عنصر میں تبدیل ہو چکے ہیں کہ امریکی قانون ساز ادارے انہیں ایک ہفتے کے لئے بھی صدر کے طور پر تحمل کرنے کا یارا نہیں رکھتے اور ان کی کوشش ہے کہ انکی مدت صدارت ختم ہونے سے پہلے پہلے انہیں یا تو عہدے سے برخاست کر دیا جائے یا کم از کم ان کا مواخذہ کیا جائے۔

ایران نے امریکی حکام بالخصوص ٹرمپ انتظامیہ کی موجودہ صورتحال کو خود انکے اقدامات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اسے دنیا خصوصاً امریکہ کی نئی حکومت کے لئے باعث عبرت قرار دیا ہے۔

ٹیگس