افغانستان میں موجود داعش، القائدہ اور دوسرے دہشت گرد گروہ وسطی ایشیا میں حملے تیز کرنے کی فکر میں ہیں، پوتین
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i394701-افغانستان_میں_موجود_داعش_القائدہ_اور_دوسرے_دہشت_گرد_گروہ_وسطی_ایشیا_میں_حملے_تیز_کرنے_کی_فکر_میں_ہیں_پوتین
روس کے صدر نے کہا ہے کہ شمالی افغانستان میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے وسطی ایشیائی ملکوں کے لیے خطرہ ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۱۶, ۲۰۲۱ ۱۳:۳۶ Asia/Tehran
  • افغانستان میں موجود داعش، القائدہ اور دوسرے دہشت گرد گروہ وسطی ایشیا میں حملے تیز کرنے کی فکر میں ہیں،  پوتین

روس کے صدر نے کہا ہے کہ شمالی افغانستان میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے وسطی ایشیائی ملکوں کے لیے خطرہ ہیں۔

صدرولادیمیر پوتین کا کہنا تھا کہ شمالی افغانستان میں داعش اور القاعدہ سمیت متعدد دہشت گرد گروہوں کے خفیہ ٹھکانے موجود ہیں اور ان گروہوں کے سرغنے، وسطی ایشیا کے علاقے میں حملے تیز کرنے کی فکر میں ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت شمالی افغانستان میں قائم دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں میں کم سے کم 2000 داعشی دہشت گرد موجود ہیں۔

روسی صدر نے اس پہلے بھی، داعشی دہشت گردوں کی افغانستان منتقلی کے بارے میں خبردار کرتے  ہوئے، افغان سرحدوں کی نگرانی اور دہشت گردوں کے مقابلے میں اس ملک کی آمادگی  کو اہم قرار دیا تھا۔

15 اگست کو افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے اب تک دہشت گرد گروہ داعش نے  اس ملک میں متعدد دہشت گردانہ حملے کیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، دہشت گرد گروہ داعش نے حالیہ برسوں کے دوران اپنے زیر نفوذ علاقوں میں اضافہ کیا اور اپنی سرگرمیوں کا دائرہ افغانستان اور پاکستان سمیت دیگر ملکوں تک پھیلا دیا ہے۔