Jun ۲۰, ۲۰۲۳ ۰۹:۵۴ Asia/Tehran
  • برطانوی پارلیمنٹ کا اپنے سابق وزیر اعظم بورس جانسن کو جھٹکا

برطانوی پارلیمنٹ نے اپنے ایک نادر اقدام کے تحت ملک کے سابق وزیر اعظم بورس جانسن کو قانونی اداروں کو جان بوجھ کر دھوکا دینے کے معاملے میں مورد الزام ٹھہرانے والی ایک رپورٹ کے حق میں ووٹ دے دیا۔

سحر نیوز/دنیا: برطانوی پارلیمنٹ کے تین سو چون نمائندوں نے پارٹی گیٹ معاملے کے بارے میں خصوصی رپورٹ کے حق میں ووٹ دے دیا جبکہ اس کی مخالفت میں کُل سات ووٹ پڑے اور یوں برطانیہ کی معاصر تاریخ میں پہلی بار وزارت عظمیٰ کے عہدے پر رہنے والے ایک فرد کو عمداً دھوکہ دھی کے الزام کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ کے اس فیصلے کے بعد پارلمانی عمارت کے اندر سابق وزیر اعظم بورس جانسن کی رفت و آمد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اگر جانسن ماضی میں پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ نہ دے چکے ہوتے تو انہیں نوے دن تک کے لئے پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس برطانیہ کے سابق وزیر اعظم بورس جانسن کو پارٹی گیٹ سے موسوم ایک معاملے کے تحت اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

پارٹی گیٹ کا معاملہ نومبر دوہزار اکیس میں روزنامہ ڈیلی میرر کی رپورٹ کے بعد سرخیوں میں آیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق کورونا محدودیتوں کے دوسرے مرحلے میں کہ جب بند جگہ پر ہر قسم کے غیر دفتری اجتماع پر حکومت کی جانب سے پابندی عائد کی گئی تھی، بوریس جانسن کو کچھ پارٹیوں کی میزبانی کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا جو بعد میں ان کے لئے دردسر بن گیا۔

ٹیگس