Aug ۰۹, ۲۰۲۵ ۱۵:۱۳ Asia/Tehran
  • غزہ کے خلاف صیہونی جارحیت اور عالمی اداروں کی بے عملی جاری، سلامتی کونسل کا اجلاس ملتوی

بین الاقوامی حمایت اور فلسطینی نمائندوں کی فوری کارروائی کی اپیل کے باوجود، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غزہ سے متعلق اجلاس اتوار تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔

سحرنیوز/دنیا:  رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ غزہ پر مکمل قبضے کی صہیونی منصوبہ بندی کے بندی کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج ہفتے کو منعقد ہونا تھا، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر اتوار تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب روس، چین، صومالیہ اور الجزائر نے غزہ سے متعلق سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلائے جانے کی حمایت کی۔قبل ازیں، فلسطینی اتھارٹی کے اقوام متحدہ میں نمائندے ریاض منصور نے کہا تھا کہ کئی ممالک جلد ہی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی کابینہ وزیراعظم نتن یاہو کی قیادت میں غزہ پر مکمل قبضے کی کوشش کر رہی ہے، جسے روکنا ناگزیر ہے۔بیشتر عرب، اسلامی یورپی اور ایشیائی ملکوں کی کوششوں کی باوجود اس اجلاس کے التوا کے لئے امریکی کوشش و حمایت سے یہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

معا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صیہونی کابینہ نے غزہ کو مقبوضہ علاقوں میں شامل کئے جانے کے نتن یاہو کابینہ کے فیصلے کی منظوری دی۔ اکتوبر دو ہزار تئیس یعنی غزہ کے خلاف صیہونی جارحیت کے آغاز سے امریکہ مسلسل اسرائيل کی ہمہ جہتی بھرپور مدد و حمایت کرتا رہا ہے اور اس راہ میں امریکہ نے اربوں ڈالر صرف کر دیئے اور یہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ اور اس سے وابستہ تمام اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں میں اسرائيل کی بھرپور حمایت بھی کرتا رہا اور اس نے اسرائيل کے خلاف کسی بھی طرح کے اقدام کے سارے راستے مسدود بھی کر دیئے۔

سیاسی مبصرین و ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائيل عملی طور پر امریکی حمایت کے بغیر اپنا کوئی بھی منصوبہ آگے بڑھانے پر قادر نہیں تھا اور سب اس نے امریکی حمایت ہی سے کیا۔ جس میں غزہ پر جارحیت اوراس علاقے کو اسرائیل میں شامل کئے جانے کا تیار کیا جانے والا منصوبہ بھی شامل ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ غزہ پر قبضہ کرے گا اور اس علاقے کو تفریح گاہ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ایک ایسی پیشکش کہ جس کی فلسطینیوں کی جانب سے نہایت شدت سے مخالفت کی گئي اور عالمی برادری نے بھی اسے فلسطینیوں کی قومی تطہیر سے تعبیر کیا۔

ٹیگس