غزہ کی تعمیر نو کا خرچہ اسرائیل اور اس کے حامیوں پر ہونا چاہیے: اقوامِ متحدہ
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی فرانچسکا البانیزے نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت، امریکہ اور دیگر بڑے ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر غزہ کی تعمیر نو کے لیے رقم ادا کرے۔
سحرنیوز/دنیا: انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فرانچسکا البانیزے نے لندن میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات زور دے کر کہی کہ غزہ میں نسل کشی کا مکمل جائزہ لیا جائے اور نہ صرف اسرائیل بلکہ نسل کشی میں اس کا ساتھ دینے والے تمام ممالک پر پابندیاں عائد کی جائيں۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندے نے کہا کہ "تمام ممالک کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی قبضہ جاری رکھنے والی حکومت کی مدد اور تعاون بند کرنا تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت اور اس کو ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک امریکہ، جرمنی اور اٹلی کو غزہ کی تعمیر نو کے اخراجات بھی اٹھانا چاہییں۔
اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی نے قبرص کے اڈوں سے فراہم کردہ خدمات کے ذریعے نسل کشی میں برطانیہ کے ملوث ہونے کی سنگین تحقیقات کرائے جانے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے غزہ میں دو سال سے جاری نسل کشی کو "60 سال کے استثنیٰ" کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نسل کشی نہیں رکے گی "جب تک کہ لندن، روم، برلن یا پیرس کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اپنے خلاف امریکی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے ججوں یا فلسطینی انسانی حقوق کے گروپوں کے ساتھ "مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔"
انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ ان پر امریکہ جانے پر پابندی ہے اس لیے وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی رپورٹ پیش نہیں کرسکتیں۔
رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ محترمہ البانیس کے خلاف امریکی پابندیاں انسانی حقوق کنوینشن کے لیے خطرہ ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اسرائیلی حکومت سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں گزشتہ دو برسوں کے دوران فضائی حملوں اور تباہی کی وجہ سے صفائی اور ملبہ ہٹانے کے بھاری اخراجات برداشت کرے۔
اسرائیلی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ تل ابیب نے امریکی درخواست پر رضامندی ظاہر کی ہے جس پر اربوں ڈالر لاگت آئے گي۔