بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر عالمی حمایت کے مستحق: جوزف بوریل
یورپی یونین کے خارجہ امور کے سابق انچارج جوزف بوریل نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان کی عالمی سطح پر حمایت اور قدردانی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سحرنیوز/دنیا: ارنا کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے خارجہ امور کے سابق انچارج جوزف بوریل نے روزنامہ آبزرور میں اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ ماجرا اپریل 2024 میں شروع ہوا جب امریکی سینیٹروں کے ایک گروپ نے کریم خان کو خبردار کیا اور درحقیقت انہیں دھمکی دی کہ اگر انھوں نے صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو خود وہ بھی نشانہ بن سکتے ہیں لیکن کریم خان ناامید نہیں ہوئے اور انھوں نے نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیرجنگ یواؤگیلینٹ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیئے۔
جوزف بوریل لکھتے ہیں کہ "اب ان کے ( بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان کے) دشمنوں نے ان پر جنسی الزامات لگا کر انہیں برخاست کروا دیا ہے۔ اگرچہ عدالت کی قائم کردہ جوڈیشیل انکوائری کمیٹی نے ان پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ ان کے خلاف شواہد کافی نہیں ہیں لیکن ان کے مخالفین اپنے مطالبے پر مصر ہیں۔"
جوزف بوریل کے مطابق چونکہ کریم خان کا کیس بین الاقوامی فوجداری عدالت پر ایک وسیع یلغار کا حصہ ہے، اس لئے اس عدالت کے مخالفین کی شناخت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اب تک بین الاقوامی فوجداری عدالت کے گیارہ عہدیداروں، کریم خان، ان کے 2 معاونین اور 8 ججوں پر پابندی کا اعلان کرچکا ہے، اس پابندی کے تحت، ان کے بینک کھاتے بند کردیئے گئے، کریڈٹ کارڈ منسوخ ہوگئے، ایپل، امیزون اور پے پال جیسی کمپنیوں میں ان کے اکاؤنٹ بند کردیئے گئے اور دیگر اقدامات بھی انجام دیئے گئے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel